’ وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی تجویز‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ یہ بل رواں برس منظور کر لیاجائے گا

وائٹ ہاؤس نے ملک کو ہیکرز اور جرائم پیشہ افراد کےحملوں سے بچانے کے لیے نئی قانون سازی کی تجویز دی ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایسی کمپنیوں کو جو پاور پلانٹس اور مالیاتی سسٹم چلاتی ہیں ترغیبات دی جائیں گی جس سے وہ اپنے سسٹمزکو مزید محفوظ بنا سکیں۔

ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کو ملکی صنعت پر اپنی مرضی کا سیکورٹی سسٹم نافذ کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔

امریکی کانگریس میں پہلے ہی اس طرح کی قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اور پرائیوٹ سکیورٹی سسٹم پر ایک دن میں لاکھوں بار حملے کیے جاتے ہیں۔

اس منصبوے کے تحت غیر ملکی اقوام اور کمپیوٹر ہیکرز کی جانب سے اہم ڈیٹا چرانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے گا۔

وائٹ ہاؤس کی تجویز کے مطابق اگر امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کمپنیاں جو سکیورٹی سسٹمز کو محفوظ بنانے میں ناکام ہو چکی ہیں تو ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ مالیاتی اور انرجی اداروں کے سکیورٹی سسٹمز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

چند کاروباری رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ حکومتی اقدامات کی بجائے رضاکارانہ پروگرام کے تحت سکیورٹی کو بہتر بنائیں گے۔

امریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ یہ بل رواں برس منظور کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب ناقدین نے اس منصوبے کو بہت کمزور قرار دیا ہے۔

امریکی کانگریس کی متعدد کمیٹیاں گزشتہ دو سالوں سے سائبر سکیورٹی سے متعلق قانون سازی سے متعلق کام کر رہی ہیں اور انہیں اوبامہ انتظامیہ کی تجاویز کا انتظار ہے۔

امریکی کانگریس میں ان دو تجاویز پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

امریکی سینٹ وائٹ ہاؤس کے سائبر کوآرڈینیٹر کی تعیناتی کی سینٹ سے تصدیق چاہتی ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔