یمن: جھڑپیں جاری، ہلاکتیں چوالیس

یمن میں مظاہرین

،تصویر کا ذریعہREUTERSAmmar Awad

،تصویر کا کیپشنقبائلی اتحاد صدر صالح کے خلاف مزاحمت میں شامل ہو گئی ہے

یمن کے دار الحکومت صنعاء میں سکیورٹی افواج اور حکومت مخالف گروپوں میں شامل ملک کی طاقتور قبائلی اتحاد کے درمیان جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری رہیں۔

پیر سے جاری اس لڑائی میں اب تک کم سے کم چوالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کو شیخ الاحمر کے حامیوں نے صنعا شہر کے کئی عوامی مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق قومی ہوائی کمپنی اور سرکاری خبر رساں ادارے پر قبضے کے بعد شیخ الاحمر کے حامی وزارتِ داخلہ پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب پیر کو یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حامی سکیورٹی افواج نے قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر کے احاطے پر چھاپہ مار کر ان کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

سکیورٹی فورسز نے شیخ صادق الاحمر کے احاطے پر اس وقت شیلنگ بھی کی تھی جب وہاں موجود قبائلی رہنما فائر بندی کے سلسلے میں ثالثی کروانے پر بات کر رہے تھے۔ قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر صدر صالح حکومت مخالف قوتوں کے حامی ہیں۔

یمن کے صدر صالح کسی ایسے سودے سے انکار کر چکے ہیں جس کے تحت ان کو اقتدار چھوڑنا پڑے اور انہوں نے شیخ الاحمر پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں خانہ جنگی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔