’زاویہ پر باغیوں کے تسلط کی کوشش ناکام‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا کی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے باغیوں کی جانب سے مغربی شہر زاویہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔
باغیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے وسط میں شدید لڑائی جاری ہے۔ تاہم جن صحافیوں کو شہر لے جایا گیا انہوں نے بتایا ہے کہ سرکاری کنٹرول میں یہ شہر پرسکون نظر آرہا تھا۔
گذشتہ مارچ کے مہینے میں سرکاری فورسز نے دو ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد دارالحکومت تریپولی سے تیس کلومیٹر دور واقع اس شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔
اس کے علاوہ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ کرنل قذافی سے مقابلہ کرنے کے لیے باغی تیونس کے ذریعے اسلحہ سمگل کررہے ہیں۔
سرکاری اہلکاروں نے جن صحافیوں کو زاویہ کا دورہ کرایا ان کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی سکوائر میں سبز رنگ کا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔
سرکاری ترجمان موسٰی ابراہیم کا کہنا ہے کہ باغی جنگجؤوں کی جانب سے کیے گئے حملے کو پسپا کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول ’چند صحافی خوش فہمی کی بنیاد پر رپورٹنگ کررہے ہیں کہ باغی مضبوط ہورہے ہیں اور وہ چند علاقوں کا کنٹرول حاصل کررہے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔‘
موسیٰ ابراہیم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ’شہر میں کسی قسم کی لڑائی نہیں ہورہی۔‘
انہوں نے واضح کیا ’سرکاری فوج سے چند گھنٹوں کی جھڑپ کے بعد باغیوں کو اپنے منہ کی کھانی پڑی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے مضافات میں ایک سو کے قریب باغیوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
دوسری جانب باغیوں کے ترجمان محمد ایزاوی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتاتے ہوئے اصرار کیا کہ شہر میں شدید لڑائی جاری ہے۔
ان کے بقول ’بریگیڈ بھاری اسلحے کا استعمال کررہے ہیں۔ وہ انقلابیوں سے زیادہ بہتر انداز میں مسلح ہیں۔ ہمارے پاس شہید ہونے والوں کے اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن کم سے کم سات انقلابیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘
اتوار کو بریقہ سے اطلاعات تھیں کہ سرکاری فوج سے جھڑپوں کے دوران چار باغی ہلاک ہوگئے۔ جبکہ باغیوں کے زیرِ تسلط مصراتہ شہر میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔




















