لیبیا: ’غیرت کے نام پر‘ لڑکیوں کا قتل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا میں امدادی کارکنوں کے مطابق ان لڑکیوں اور عورتوں کو ان ہی کے گھر والے ’غیرت کے نام پر‘ قتل کر رہے ہیں جو جنسی زیادتی کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی تھیں۔
عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی دنیا بھر میں ایک حساس مسئلہ ہے لیکن لیبیا میں اس پر بات کرنا باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کے اہلکار عرفات جمال کا کہنا ہے کہ لیبیا میں جب کسی کا ریپ ہوتا ہے تو اسے پورے گاؤں یا قصبے کی ’بے عزتی‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
لیبیا کے خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی خبریں مل رہی ہیں کہ ملک کے مغربی قدامت پسند علاقوں میں کرنل قذافی کی حامی افواج نے لڑکیوں کو ان کے ماں باپ اور بھائیوں کے سامنے ریپ کیا۔
حانا الغازی کا کہنا ہے کہ ’اپنی ہی بیٹی کو آنکھوں کے سامنے ریپ ہوتے دیکھنا ان لوگوں کے لیے موت سے بدتر ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں عورتیں پردے کے بغیر باہر نہیں نکلتیں۔
حانا العازی لیبائی رضاکاروں کے اس گروپ میں شامل ہیں جو لوگوں کو طبی امداد دے رہے ہیں۔
یہ تنظیم ایسی لڑکیوں اور عورتوں کو اسقاطِ حمل کے لیے رقم بھی مہیا کر رہی ہے جو جنگ کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد حاملہ ہو گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیبیا کی امدادی ایجنسی کے اہلکار نادر الحمیسی کا کہنا ہے کہ ’ابھی وقت ہمارے ساتھ نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی باپ یہ جاننے کے بعد اپنی بیٹیوں کو قتل کر دیں گے کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان والدین کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسا کر کے اپنی بیٹیوں کو بچا رہے ہیں۔
حانا العازی کا کہنا ہے کہ ’اسی لیے ہم لڑکیوں اور عورتوں کو اسقاطِ حمل کے لیے رقم مہیا کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس سلے میں پہلے ہی ایک فتویٰ جاری کر دیا گیا ہے کہ ایسے حالات میں اسقاطِ حمل کرانا گناہ نہیں ہے۔
’چیرٹی فار ورلڈ‘ کے لیبیا میں دفتر نے تیونس میں سرحد پر اماموں سے رابطہ کیا ہے جہاں اس بات پر لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ریپ کے معاملے میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔




















