لیبیا: حکومت اور باغیوں پر جنگی جرائم کا الزام

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ایسے جرائم کے شواہد ملے ہیں جن میں قتل، تشدد اور شہریوں پر بلاامتیاز حملے شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ایسے جرائم کے شواہد ملے ہیں جن میں قتل، تشدد اور شہریوں پر بلاامتیاز حملے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے لیبیا میں حکومتی سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگی جرائم کے علاوہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ان جرائم کے شواہد ملے ہیں جن میں قتل، تشدد اور شہریوں پر بلاامتیاز حملے شامل ہیں۔

ان کے بقول ان کارروائیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جو طریقے مستقل طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کارروائیاں لیبیا کے رہنما کرنل قذافی کی منصوبہ بندی اور حکم کے تحت کی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے لیبیا میں حکومت مخالف دستوں پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھی انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں لیکن وہ اتنی زیادہ نہیں ہیں جتنی کہ حکومتی کارروائیاں ہیں۔

لیبیائی باغی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ نے لیبیا میں حکومت مخالف دستوں پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھی انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

ادھر لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور باغیوں کے قبضے والے شہر بن غازی سے شدید دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

بن غازی میں دھماکہ ایک ایسے ہوٹل کے باہر ہوا جو باغی رہنماؤں، غیرملکی سفارتکاروں اور صحافیوں کے زیر استعمال ہے۔

دھماکے کے بعد ہوٹل کے باہر افراتفری کا منظر تھا۔

بن غازی میں حکام کے مطابق دھماکے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ پیر کو جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما لیبیا میں جاری لڑائی کے پرامن سفارتی حل کی کوشش کے سلسلے میں دارالحکومت طرابلس پہنچے تھے۔

طرابلس میں انہوں نے لیبیائی رہنما کرنل معمر قذافی سے ملاقات کی۔

صدر زوما کے اس دورے کو لیبیا میں لڑائی اور حکومت مخالف مزاحمت کے پرامن حل کی آخری کوشش قرار دیا گیا ہے۔