صومالیہ: قحط، نقل مکانی میں اضافہ

شمال مشرقی افریقہ کے چار ممالک میں قحط سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے
،تصویر کا کیپشنشمال مشرقی افریقہ کے چار ممالک میں قحط سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے

افریقی ملک صومالیہ میں قحط سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد دارالحکومت موغا دیشو کا رخ کر رہی ہے جو پہلے ہی کئی سالوں کی لڑائی سے بری طرح متاثر ہے۔

صومالیہ میں حکومت کا کہنا ہے کہ روزانہ پندرہ سو افراد دارالحکومت کا رخ کر رہے ہیں جب کہ ان متاثرہ افراد کی مدد کے لیے محدود وسائل دستیاب ہیں۔

تباہ حال سرکاری عمارتوں میں قیام پذیر قحط سے متاثرہ خاندانوں کی عام لوگ اپنی سکت کے مطابق مدد کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی مشرقی افریقہ میں جاری خشک سالی میں صومالیہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

شمال مشرقی افریقہ کے چار ممالک میں قحط سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

دارالحکومت موغا دیشو ہر روز متاثرین ہلاک ہو رہے ہیں۔ صرف ایک علاقے میں ایک رات کے دوران آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صومالیہ میں دارالحکومت کے علاوہ ملک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول رکھنے والی شدت پسند مذہبی تنظیم الشباب نے دارالحکومت کے باہر متاثرین کے لیے ایک کیمپ قائم کیا ہے۔

تاہم وہ سرکاری کنٹرول کے علاقے سے متاثرہ لوگوں کی کیمپ میں آمد اور ہمسایہ ممالک کینیا اور ایتھوپیا میں قائم کیمپوں میں جانے کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ الشباب ایسا کیوں کر رہی ہے تاہم امدادی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ الشباب ریڈیو نشریات کے ذریعے لوگوں کو نقل و حرکت سے باز رکھ رہی ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کا ادارۂ برائے پناہ گزین کے سربراہ اؤٹونیو گیوٹرس نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگر صومالیہ میں سکیورٹی مسائل حل ہوتے ہیں تو امدادی ایجنسیاں وہاں قحط سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے جائیں۔

اس کے علاوہ ادارے کے سربراہ نے کینیا کے صدر سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ وہاں متاثرین کے لیے امدادی کیمپ قائم کیا جا سکے۔

اس کیمپ میں چالیس لاکھ متاثرین کی گنجائش ہو گی تاہم کینیائی حکام اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ وہ پناہ گزینوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے کہ وہ مستقل طور پر کینیا میں رہیں۔