صومالیہ میں قحط، نقل مکانی میں اضافہ

مہاجر بچے کم خوراکی اور پانی کی قلت کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمہاجر بچے کم خوراکی اور پانی کی قلت کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں

بین الاقوامی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن کے مطابق صومالیہ میں جنگ اور قحط کے باعث بڑی تعداد میں لوگ سرحد پار کر کے کینیا جا رہے ہیں۔

سیو دی چلڈرن نامی کی رپورٹ کے مطابق روزانہ تقریباً تیرہ سو افراد، جن میں سے کم از کم آٹھ سو بچے ہیں، کینیا میں لگائے گئے داداب مہاجر کیمپ پہنچ رہے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ماہانہ نئے آنے والے بناہ گزینوں کی تعداد پچھلے ایک سال میں دوگنا بڑھ گئی ہے۔

کیمپ پر موجود امدادی کارکنوں نے بتایا کہ پناہ گزین بچے کم خوراکی اور پانی کی قلت کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

واضع رہے کہ صومالیہ کے حالات الشباب تنظیم اور عبوری حکومت کے درمیان جاری لڑائی کی وجہ سے خراب ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد صومالیہ سے سرحد عبور کر کے ایتھوپیا پہنچے ہیں۔ ان میں سے اکتیس ہزار پچھلے پانچ ماہ میں ایتھوپیا پہنچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوارک کے اندازے کے مطابق پچیس لاکھ صومالی فی الحال قحط سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان افراد میں سے اٹھاون فیصد ملک کے جنوب میں رہتے ہیں۔اور مزید دس لاکھ افراد ایسے ہیں جن تک ورلڈ فوڈ پروگرام کی رسائی نہیں ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندے پیٹر سمیرڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ ملک کے جنوب میں کام نہیں کر پا رہے کیونکہ وہاں الشباب کا کنٹرول ہے اور ہماری ٹیموں کو وہاں دھمکایا اور ڈرایا جا رہا ہے۔‘