لندن: فسادات ٹوٹہنم سے دوسرے علاقوں تک پھیلنا شروع

لندن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندو راتوں کے ان فسادات میں 100 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا

لندن کے شمالی علاقوں میں تیسرے روز بھی فسادات کا سلسلہ جاری ہے اور ہنگامے ٹوٹنہم سے ہیکنی کے علاقوں تک پہنچ گئے ہیں جہاں نوجوانوں کےگروہوں نے کئی دوکانوں کو لوٹ لیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔

نوجوان لڑکوں نے توڑ پھوڑ کی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔دریں اثناء ملک کی وزیرِ داخلہ اپنی چھٹیاں مختصر کر کے واپس پہنچ چکی ہیں۔

برطانوی وزیرِ داخلہ ٹریسا مے نے پولیس کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے۔

<link type="page"><caption> لندن میں ہنگامے تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2011/08/110808_london_riots_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> لندن: ٹوٹنہم میں فسادات، لوٹ مار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/08/110806_london_protests_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

پیر کی شام کو لندن کے علاقے ہیکنی کی میئر سٹریٹ میں بھی پولیس اور نوجوانوں کے ایک گروپ کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

دو روز سے جاری ان فسادات میں ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 35 پولیس افسر زخمی ہو گئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو پولیس کی مبینہ فائرنگ سے انتیس سالہ شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ اس ہلاکت کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ تاہم ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یہ مظاہرے فسادات میں تبدیل ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ان واقعات کے دوران جنوبی لندن کے علاقے برکسٹن میں ایک کھیلوں کے سامان کی دکان کو نذرِ آتش کر دیا گیا جب کہ قریبی دکانوں سے لوٹ مار کی گئی ہے۔

مشرقی لندن میں تین پولیس افسران اس وقت زخمی ہو گئے جب انھوں نے ایک شخص کو گرفتاری کرنے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ اینفیلڈ اور والتھم سٹوو سمیت مختلف علاقوں میں بدامنی کے واقعات پیش آئے ہیں

ان فسادات میں پولیس، پولیس کی دو گاڑیوں، ایک بس اور عمارتوں پر پٹرول بموں سے حملے کیے گئے تھے۔

میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ٹوٹنہم کے فسادات کے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی شب شہر بھر میں ہونے والے فسادات کے کئی واقعات سے نمٹا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے فوٹوگرافر لیوس وائلڈ نے بتایا ہے کہ انھوں نے برکسٹن میں ایک دکان کے باہر لوٹ مار کرنے والے افراد اور پولیس کے درمیان تصادم دیکھا ہے۔

’سو نوجوانوں کا ایک گروہ لوٹ مار کر رہا تھا اور انھیں روکنے کے لیے پولیس جب وہاں پہنچی تو گلی میں بڑے پیمانے پر تصادم شروع ہو گیا۔‘

نوجوان بوتلیں اور پتھر پھینک رہے تھے اور ایک کوڑے دان کو آگ لگا دی، اس کے علاوہ آگ بجھانے والے آلات سے پولیس کو پیچھے دھکیل رہے تھے تاکہ دکان میں واپس جا کر لوٹ مار کریں۔

ایک دوسرے شخص روڈا ڈاکر نے برکسٹن میں بدامنی کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا ’میں نے ریلوے پل کی ایک سمت سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا اور فضا میں ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔

’نوجوان لوٹ مار کر رہے تھے اور ہاتھوں میں چھڑیاں پکڑے بھاگ رہے تھے، اس موقع پر میں نے وہاں سے نکل جانا ہی مناسب سمجھا۔ میں صرف اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ نوجوان وہاں کچھ ہونے کے انتظار میں تھے۔‘

پولیس کمانڈر کرسٹین جونز کا کہنا ہے ’ کچھ علاقوں میں تشدد، کچھ اضلاع میں لوٹ مار اور بدامنی کے پھیلنے جیسی صورتحال سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے۔

’ہم نے پولیس یونٹس کو تعینات کر دیا ہے اور کسی بھی مجرمانہ سرگرمی سے جتنی جلدی ہو سکے نمٹ رہے ہیں۔‘

پولیس کمانڈر نے مزید کہا ’پولیس اہلکار ایک بار پھر خود کو خطرے میں ڈال کر ذمہ داروں کو گرفتار کر رہے ہیں تاکہ مزید جرائم نہ ہو سکیں اور مجھے پولیس کی بہادری اور لگن پر فخر ہے۔‘