’الزاویہ اور زلتان پر باغیوں کا قبضہ‘

شورش کے آغاز سے اب تک کوئی چھ لاکھ غیر ملکی لیبیا چھوڑ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشورش کے آغاز سے اب تک کوئی چھ لاکھ غیر ملکی لیبیا چھوڑ چکے ہیں

لیبیا میں باغیوں نے دارلحکومت طرابلس کی جانب مسلسل پیش قدمی کے دوران دو اہم شہروں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد انھوں نے طرابلس سے مغرب میں تیس کلومیٹر دور واقع الزاویہ اور مشرق میں ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور زِلتان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باغیوں کے اس دعوٰی کو حکومت نے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں شہروں پر لیبیا کی فوج کا کنٹرول ہے۔

اسی دوران دارالحکومت طرابلس میں موجود غیر ملکی افراد کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

طرابلس میں بی بی سی کے میتھیو پرائس کے بقول باغی طرابلس سے صرف تیس کلومیٹر دور ہیں اور حکومت کے خلاف لڑائی میں ان کا پلہ پہلے کی نسبت زیادہ بھاری ہے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق باغیوں کی اس پیش قدمی سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس اب قذافی کی حامی فوجوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے مناسب تربیت اور صلاحیت ہے۔

باغیوں نے مشرقی بندرگاہ بریقہ پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لیکن ہمارے نامہ نگار کے مطابق باغیوں کے بریقہ اور زلتان کے شہروں پر قبضہ کرنے کے دعووں کی فی الوقت تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

حزب اختلاف مصراتہ ملٹری کونسل کے منیر رمضی نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’لڑنے والوں نے زلتان کو آزاد کرا لیا ہے اور اب وہ شہر کے مغرب میں لڑ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو طویل دورانیہ کی جھڑپوں میں اکتیس باغی ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوئے ہیں۔

الزاویہ میں شورش میں ملوث تیل کے ایک انجينئر، حسین ازوائق نے بی بی سی کو بتایا کہ باغیوں نے ’کرنل قذافی کی فوجوں کو الزاویہ سے باہر دھکیل دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہم لوگ ابھی شہر کے مرکز میں جشن منا رہے ہیں۔‘

الزاویہ پر قبضہ حاصل کرنے سے طرابلس سے تیونس جانے والی اہم سڑک کو بند کر کے کرنل قذافی کی فوجوں کی رسد کو روکا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب کرنل قذافی کے وزیر اطلاعات موسیٰ ابراہیم نے جمعہ کی رات کو ایک بیان میں باغیوں کے دعووں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ زلتان اور الزاویہ دونوں شہروں میں حکومتی فوج کا تسلط ’فتنہ انگيز‘ باغیوں کی نسبت زیادہ مستحکم ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں اس شورش کے شروع ہونے سے اب تک کم و بیش چھ لاکھ غیر ملکی کام کرنے والے لیبیا چھوڑ کر جا چکے ہیں لیکن بیشتر اب بھی ملک میں ہی ہیں۔