’باغی کمانڈر اپنی ہی سپاہ کا نشانہ بنے‘

جنرل یونس کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنرل یونس کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

لیبیا میں باغی حکمران کونسل کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ کمانڈر عبدالفتح یونس اپنی ہی بریگیڈ کے فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں قائم عبوری کونسل کے تیل اور فنانس کے وزیر علی ترہونی کا کہنا تھا کہ جنرل عبدالفتح یونس کو ہلاک کرنے والے فوجی انہیں کے بریگیڈ کے سپاہی تھے جن کے اسلامی شدت پسندوں سے روابط تھے۔

فروری میں مسلح مزاحمتی تحریک شروع ہونے سے پہلے تک جنرل یونس کرنل معمر قذافی کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے، لیکن مزاحمتی تحریک شروع ہونے کے بعد وہ حکومت کو چھوڑ کر باغیوں سے آ ملے۔

علی ترہونی کا کہنا کہ جنرل یونس کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ ایک عدالتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے محاذ سے واپس آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو ہلاک کرنے والوں کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

طرابلس میں صدر قذافی کی حکومت کا کہنا ہے کہ جنرل عبدالفتح یونس کی ہلاکت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باغی ملکی معاملات چلانے کہ اہل نہیں ہیں اور اپنی قیادت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔

جنرل یونس پہلے کرنل معمر قذافی کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے
،تصویر کا کیپشنجنرل یونس پہلے کرنل معمر قذافی کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے

اس سے پہلے لیبیا میں نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ہوائی حملے میں ملک کی تین سرکاری ٹی وی سیٹلائٹ ٹرانسمشن ڈشوں کو ناکارہ کر دیا ہے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد کرنل قذافی کی جانب سے ٹی وی کے ذریعے کی جانے والی اشتعال انگیز نشریات کو روکنا تھا۔

نیٹو کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ سوچ سمجھ کر کیا گيا ہے اور حملے سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ حملے میں کم سے کم جانی نقصان ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹی وی سیٹلائٹ پر حملہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ ٹی وی نشریات کے ذریعے حکومت کی جانب سے عام شہریوں کو دبانے ،دھماکے اور ان کے خلاف حملوں پر اکسانے کا کام کیا جا رہا تھا۔

تاہم نیٹو کی جانب سے اس بیان کے بعد لیبیا کا سرکاری ٹی وی کی نشریات جاری تھیں۔

لیبیا میں عام شہریوں کو کرنل قذافی کے حملوں سے بچانے کے لیے نیٹو مشن شروع کیا گیا تھا اور پہلے اس کی قیادت امریکہ کے پاس تھی تاہم مارچ کے آخر میں نیٹو کے زیرِ قیادت شروع ہوا تھا اور اس مشن کو ستائیس جون کو ختم ہونا تھا تاہم اس میں مزید نوے دنوں کی توسیع کی دی گئی ہے۔