’میں آزاد ہوں، باغیوں کو چنگل میں پھنسایا‘

سیف الاسلام
،تصویر کا کیپشنجرائم کی بین الاقوامی عدالت نے اتوار کو کہا تھا کہ سیف الاسلام گرفتار ہو چکے ہیں

لیبیا کےدارالحکومت طرابلس میں صحافیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو جن کے بارے میں پہلے کہا گیا تھا کہ وہ پکڑے گئے ہیں آزاد دیکھا ہے۔

طرابلس میں دن بھر شدید لڑائی کے بعد بظاہر باغیوں کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا ہے۔ کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام ایک فوجی گاڑی میں سوار ہو کر صحافیوں کے سامنے آئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس نے بتایا کہ سیف الاسلام اس ہوٹل یں پہنچ گئے جہاں صحافی ٹھہرے ہوئے تھے۔

سیف الاسلام نے کہا کہ حکومت کی حامی فوج نے باغیوں کو چنگل میں پھنسا کر ان کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کرنل قذافی طرابلس میں محفوظ ہیں۔

اس سے پہلے جرائم کی بین الاقوامی عدالت آئی سی سی کے پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکامپو نے کہا تھا کہ انتالیس سالہ سیف الاسلام گرفتار ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جو باغیوں کے ایک گروہ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں بتایا کہ یہ گروہ طرابلس سے باہر آ گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کے ایک بیٹے محمد جو اپنے گھر میں نظر بند تھے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تاہم کرنل قذافی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

باغیوں کی قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کی گرفتاری تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فتح مل گئی ہے۔