کیا قذافی کا دور ختم ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چھ ماہ کی بغاوت رنگ لے آئی ہے اور معمر قذافی کی مخالف قوتیں دارالحکومت طرابلس میں داخل ہوگئی ہیں۔ لڑائی ابھی جاری ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرنل قذافی کا اکتالیس سالہ دور اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
کرنل معمر قذافی پر الزام ہے کہ انہوں نے انیس سو انہتر سے ملک میں آہنی گرفت رکھی ہوئی ہے۔
طلبا کو جبراً ان کی ہری کتاب میں درج سیاسی نظریات پڑھائے جاتے تھے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی تھی اور ان کے ناقدین پر تشدد کیا جاتا، انہیں قید یا پھر بعض اوقات قتل کر دیا جاتا تھا۔ لیبیا کے ہمسایہ ممالک جیسے کہ تیونس اور مصر میں حکمرانوں کی تبدیلی کے بعد یہاں بھی لیبیائی باشندوں نے احتجاج شروع کیا۔
لیکن کرنل قذافی کی حکومت نے طرابلس میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد بن غازی کی جانب حرکت شروع کی۔
اس وقت خدشہ پیدا ہوا کہ دس لاکھ افراد پر مشتمل بن غازی پر حملے کی صورت میں خونریزی ہوسکتی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے کرنل قذافی کے اپنے ہمسایوں اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، البتہ انہیں چند افریقی رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔
عرب لیگ نے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ بن غازی میں شہریوں کو بچانے کی خاطر مداخلت کرے۔ مارچ میں سلامتی کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے تمام تر ضروری اقدامات کی منظوری دے دی۔ تاہم اس نے فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت نہیں دی۔ نیٹو طیاروں نے بن غازی کے مضافات میں سرکاری فورسز کو نشانہ بنا کر انہیں وہاں سے بے دخل کر دیا۔
نیٹو حکام اس تاثر کو مسترد کرتے رہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ فضائیہ کے طور پر متحرک ہیں یا پھر ان سے ان کے رابطے ہیں لیکن باغیوں کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ ان کی پیش قدمی سے قبل قذافی کی حامی فورسز پر بمباری کی جاتی رہی ہے۔ اس سے باغیوں کو پیش قدمی میں آسانی رہتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس نے باغیوں کو ہتھیار دینے کا اعتراف کیا ہے جبکہ دیگر کئی ممالک نے تربیت اور سفری سہولتیں فراہم کیں۔
آخر اس پیش قدمی میں اتنا طویل وقت کیوں لگا؟
نیٹو کے فضائی حملوں کے آغاز کے پانچ ماہ بعد باغی طرابلس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کرنل قذافی کی فورسز تربیت یافتہ اور مسلح ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں باغی عام شہری تھے جن کے ہاتھ اے کے 47 رائفلز آئی تھیں۔ فضائیہ حملوں کی مدد سے سرکاری فورسز کی قوت کو کمزور کرنے میں انہیں وقت لگا۔
اقتدار پر قبضے کے بعد پہلی ترجیع کرنل قذافی کی گرفتاری ہوگی تاکہ انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے بین الالقوامی عدالت میں پیش کیا جاسکے۔ خطرہ ہے کہ ان کی گرفتاری تک ان کے حامی گوریلہ جنگ جاری رکھیں۔
باغیوں کی قومی عبوری کونسل مختلف دھڑوں پر مشتمل ہے۔ مشرقی لیبیا میں باغیوں کے قبضے کے علاقے میں عبوری انتظامیہ پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے۔
کونسل کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ حکومت نہیں ہے اور قذافی کے جانے کے بعد وہ آزاد انتخابات اور ملک کے لیے آئین سازی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ اس کونسل میں لیبیا کے مختلف خطوں سے اکتیس اراکین بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے نام ظاہر کیے ہیں لیکن کئی نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے۔ کونسل میں پانچ نشستیں خواتین جبکہ اتنی ہی نوجوانوں کے لیے مختص ہیں۔





















