قذافی کے بنکر پر بمباری

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے طیاروں نے کرنل معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں ایک بڑے بنکر پر حملہ کیا ہے۔ ادھر باغیوں نے بھی سرت کو جانے والی شاہراہ پر مزید ٹینک اور راکٹ لانچر بھیج کر اپنی قوت میں اضافہ کیا ہے۔
برطانوی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹورنیڈو طیاروں نے میزائلوں سے سرت میں ایک بڑے بنکر کو نشانہ بنایا ہے۔
اس بنکر میں قذافی فورسز کا کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کام کر رہا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا کرنل قذافی سرت یا اس بنکر میں موجود تھے یا نہیں۔ برطانوی وزیر دفاع لیئم فاکس نے بی بی سی کو بتایا کہ کارروائی کا مقصد کرنل قذافی کی حکومت کو اپنے لوگوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے باز رکھنا ہے۔
<link type="page"><caption> لیبیا میں فریقین برداشت کا مظاہرہ کریں: اقوام متحدہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/08/110826_libya_un_update_ar.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کا مزید کہنا تھا کہ بنکر پر حملے کا مقصد طرابلس چھوڑنے کی صورت میں قذافی سے متبادل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مقام چھیننا تھا۔ باغیوں نے سرت پر حملے کی خاطر اس سے سو کلومیٹر کی دوری پر بن جواد کے قصبے میں اپنی قوت بڑھانا شروع کر دی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ نے، جو باغیوں کے ہمراہ ہیں، بتایا ہے کہ شدید مزاحمت کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں۔ باغی کمانڈروں کے سرت تک پہنچنے میں کم از کم تین یا چار روز لگ سکتے ہیں۔
باغی انتظامیہ یعنی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل نے طرابلس پہنچنا شروع کردیا ہے۔ البتہ کئی سیئنر رہنما ابھی بھی بنغازی میں موجود ہیں۔ باغیوں نے دنیا سے لیبیا کے منجمد اثاثے دوبارہ بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ نے پہلے ہی فوری امداد کے لیے ڈیڑھ ارب ڈُالر کے لیبیائی اثاثے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
استنبول میں باغی حکومت کے سربراہ محمود جبرئل نے خدشہ ظاہر کیا کہ جلد فنڈز نہ ملنے سے بغاوت متاثر ہوسکتی ہے۔"حکومت کے گرنے کے بعد اقعات بہت بڑھ گئی ہیں۔ ہم آنے والے وقت میں عبوری حکومت قائم کریں گے اور اس حکومت کے پاس تمام وسائل ہوں گے جو عوام کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ یہ ضروریات ضرور پوری ہونے چاہیں کیونکہ لوگوں نے چھ طویل ماہ تک یہ حالات برداشت کئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کے وزیر دفاع احمد داتوگلو نے بھی عبوری انتظامیہ کو جلد تسلیم کرنے کی مطالبہ کیا ہے۔’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی اہم ہے کہ نئے لیبیائی پرچم کو تسلیم کر لیا جائے کیونکہ یہ لیبیا کے عوام کی واحد نمائندگی اور خودمختاری کی علامت ہے۔‘
اگرچہ دارالحکومت طرابلس کے اکثر علاقے پرسکون ہیں لیکن ابو سلیم ضلع میں جو قذافی کا آخری وفادار علاقہ ہے لڑائی اب بھی جاری ہے۔
ائرپورٹ کے آس پاس کے علاقوں میں بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ شہر میں پولس فورس ناپید ہے اور پینے کا پانی بھی مسیر نہیں۔ ایک نئی انتظامیہ نے کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس کا دائرہ اختیار انٹرنیشنل ہوٹل سے زیادہ دور تک نہیں۔





















