لیبیا:’بین الاقوامی فوج باغیوں کو قبول نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیبیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ایئن مارٹن کا کہنا ہے کہ باغیوں کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ لیبیا میں کسی قسم کی غیر ملکی فوج کی موجودگی نہیں چاہتے چاہے وہ غیر مسلح فوجی مبصرین کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ لیبیا کی عبوری قیادت ملک میں ایک پولیس فورس کے قیام میں مدد کے لیے درخواست کرنے والی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ایسی کسی بھی درخواست پر فوری مثبت ردعمل دے۔

ایئن مارٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ نیشنل ٹرانزیشنل کونسل انتخابات کی تیاری کے سلسلے میں بھی مدد کی طلبگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی سی نے آزادی کے اعلان کے بعد آٹھ ماہ کے عرصے میں انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر پابندیاں عائد کرنے والی اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نے برطانیہ کی وہ درخواست منظور کر لی ہے جس میں ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کی لیبیائی کرنسی ریلیز کرنے کو کہا گیا ہے۔ یہ رقم مارچ میں لیبیا کی حکومت کے اثاثے منجمد کیے جانے کے بعد سے رکی ہوئی تھی۔

اس رقم کو لیبیا میں ہنگامی امداد کی فراہمی کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

باغی اب لیبیا کے بیشتر علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں تاہم کرنل قذافی کی حامی افواج کچھ جگہ پر مزاحمت کر رہی ہیں جن میں قذافی کی جائے پیدائش سرت کا علاقہ بھی شامل ہے۔

لیبیا کے باغی رہنماؤں نے معمر قذافی کی حامی فوج کو ہتھیار ڈالنے کے لیے سنیچر تک کی مہلت دی ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج ہتھیار ڈال دے ورنہ فوجی کارروائی کے لیے تیار رہے۔ باغی کونسل کے رہنما مصطفیٰ عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ یہ مہلت قذافی کی حامی فوج کے لیے ہے جو سرت اور دیگر قصبوں میں موجود ہے۔

بن غازی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ عبدالجلیل نے کہا کہ اگر قذافی حامی فوج کی جانب سے ہفتے کے روز تک ہتھیار ڈالنے کے اشارے نہ ملے تو پھر فیصلہ فوجی کارروائی ہی کے ذریعے ہو گا۔ ’ہم یہ نہیں کرنا چاہتے لیکن اب ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے۔‘

کرنل قذافی کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم ان کی اہلیہ صفیہ، بیٹی عائشہ اور بیٹوں محمد اور ہنیبل نے الجزائر میں پناہ لے لی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں الجزائر کے سفیر مراد بن مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

نامہ نگاروں کے مطابق قذافی خاندان کے لیے الجزائر ایک پناہ گاہ ہے کیونکہ دونوں ممالک کی لمبی سرحد ہے اور اس نے ابھی تک باغیوں کو تسلیم نہیں کیا۔