’قذافی اب بھی خطرناک ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا میں باغیوں کے رہنما کا کہنا ہے کہ کرنل معمر قذافی اب بھی دنیا اور لیبیا کے لیے ایک خطرہ ہیں۔
باغیوں نے البتہ قذافی کے آبادی شہر سرت کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے جس دوران انہوں نے ایک چھوٹے قصبے نوفیلیا پر قبضہ کر لیا ہے۔
قطر میں دفاعی نمائندوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی عبوری کونسل یا این ٹی سی کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ نیٹو اور اس کے اتحادی باغیوں کی بقول ان کے ایک ظالم کے خلاف بدستور حمایت جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قذافی فورسز اب بھی ردعمل کے طور پر بہیمانہ حملے کرسکتے ہیں۔
طرابلس میں قذافی کے کمپاونڈ پر باغیوں کے قبضے کے بعد سے معلوم نہیں کہ کرنل قذافی کہاں ہیں۔ باغیوں نے البتہ قذافی کے آبائی شہر سیرت کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے جس دوران انہوں نے ایک چھوٹے قصبے نوفیلیا پر قبضہ کر لیا ہے۔ فروری میں عوامی احتجاج کے آغاز کے بعد کئی ماہ تک جاری رہنے والے تصادم میں باغی لیبیا کے اکثر علاقوں پر قابض ہوچکے ہیں۔
باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ سرت میں قبائلی عمائدین سے مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ خونریزی سے بچا جاسکے۔ تاہم اب تک یہ بات چیت بےنتیجہ ثابت ہوئی ہے۔ نوفیلیا میں باغیوں کے ہمراہ موجود بی بی سی نامہ نگار کلائیو مرے کا کہنا ہے کہ سرت کے مضافات تک پہنچنا اب کچھ زیادہ دور نہیں۔ خیال ہے کہ کرنل قذافی کا بیٹا فورسز کی وہاں کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔
باغی امید کر رہے ہیں کہ قبائلی سرداروں کے ساتھ مذاکرات مفید ثابت ہوں گے۔ قبائلی عمائدین کے ذہنوں میں کرنل قذافی کی گزشتہ ہفتے کی تنبیہ ابھی تازہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ باغی شہر میں داخل ہوکر لوٹ مار اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کریں گے۔
ایک باغی کا کہنا ہے کہ قبائلی سردار ہھتیار ڈالنا چاہتے ہیں لیکن انہیں شہر میں موجود فوجی ایسا کرنے سے روک رہے ہیں۔ باغی امید کر رہے ہیں کہ نیٹو طیاروں کی مدد سے اس انقلاب کی آخری بڑی جنگ بہت جلد لڑیں گے۔ نیٹو کا مینڈیٹ ستمبر کے آخر تک ہے جس کے بعد اسے اس کے اراکین دوبارہ جائزہ لیں گے۔















