لیبیا میں مکمل آزادی کا اعلان اور جشن

لیبیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشن کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، سب سے پہلے تلاوت کے بعد اب مختلف مقررین کی تقاریر کر رہے ہیں اور آزادی کی جدو جہد کرنے والوں اور ان کے ہنماؤں کو حراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی کے بیالیس سالہ اقتدار کے خونی اختتام کے بعد لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بن غازی نامی شہر میں جمع ہے جہاں ملک کی عبوری حکومت نے مکمل آزادی کا اعلان کیا ہے۔

بن غازی شہر کے آزادی چوک میں اتوار کو عبوری حکومت کے رہنما مصطفیٰ عبدالجلیل کی تقریر سننے کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ تقریبات کا آغاز قرآن کی تلاوت سے کیا گیا۔

نیٹو کی پشت پناہی سے تبدیلی لانے میں کامیاب ہونے والے کل کے باغی اور آج کے انقلابی دستوں نے جمعرات کو سابق حکمران کرنل قذافی کو ان کے آبائی گاؤں سرت کے قریب گرفتار کر کے ہلاک کر دیا۔

اقوام متعدہ سمیت کئی ملکوں کی جانب سے قذافی کی ہلاکت کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اب لیبیا کے طبی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور یہ پتہ چلا ہے کہ ان کی موت سر میں ایک گولی لگنے سے واقع ہوئی تھی۔

اب ان کی لاش کو ان کے بیٹے معتصم کی لاش کے ساتھ مصراتہ میں عام نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

کرنل قذافی کو اگست کے آخر میں ہی دارالحکومت طرابلس سے باہر دھکیل دیا گیا تھا لیکن انہوں نے خود کو انقلابیوں کے حوالے کرنے یا لیبیا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا تھا۔

مصطفیٰ عبدالجلیل نے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ ’اپنا سر بلند کرو، اب تم لیبیا کے آزاد شہری ہو۔‘ عبدالجلیل نے تقریر سے پہلے کامیابی پر خدا کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا۔

انہوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انقلاب میں حصہ لیا تھا جِن میں صحافی، باغی فوجی اور کاروباری لوگ سبھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے لیبیا کی بنیاد اسلامی قانون پررکھی جائے گی۔

انہوں نے تمام لوگوں کو معافی، برداشت اور اور صلح کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اندر سے نفرتیں ختم کر دینی چاہیں۔ ’یہ لیبیا کے مستقبل اور انقلاب کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔‘

عبوری کونسل کے رہنما نے یمن اور شام میں حکومت مخالف مظاہرین کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔

عبوری کونسل کے رہنما نے اس سے قبل کہا تھا کہ ملک میں انتخابات آئندہ سال جون میں ہوں گے۔ ان انتخابات میں آئین ساز اسمبلی منتخب کی جائے گی۔ یہ اسمبلی جو آئین مرتب کرے گی اس پر ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ اس کے بعد صدارتی انتخابات کے انعقاد تک ملک کا نظام ایک عبوری حکومت چلائے گی۔