آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین پنجاب میں سکھ اور ہندو مسلمانوں کے لیے مساجد کیوں بنوا رہے ہیں؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو
- مقام, فتح گڑھ صاحب
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پنجاب کے سنگرور ضلع کی دھوری تحصیل کا پوناوال گاؤں ایک بڑا دیہات ہے۔ اس کی آبادی تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل ہے، سکھ اور ہندو اکثریت میں ہیں۔
فروری کے اوائل میں یہاں ایک مسجد کا افتتاح ہوا۔ دیکھنے میں یہ ایک چھوٹی اور عام سی مسجد نظر آتی ہے لیکن اس میں ایک خاص بات ہے۔ اس مسجد کے لیے زمین گاؤں کے ایک ہندو پنڈت جسپال رام جی کے خاندان نے دی ہے اور اس کی تعمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں اور سکھوں نے بھی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔
پنجاب کے شاہی امام مولانا لدھیانوی نے پنڈت جسپال رام کے خاندان کے افراد اور گاؤں کے سکھوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کی موجودگی میں مسجد کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ’اس گاؤں میں ابھی تک کوئی مسجد نہیں تھی۔ گاؤں کے ایک پنڈت خاندان نے مسلمانوں کی مسجد کے لیے اپنی ذاتی زمین دی۔‘
یہاں سے تقریباً 100 کلومیٹر دور فتح گڑھ صاحب ضلع سکھوں کا ایک تاریخی اور مقدس مقام ہے۔ پنجاب حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے مغل بادشاہ اورنگزیب کے ظلم کے خلاف مزاحمت کی تھی۔
اس کی پاداش میں ان کے دو چھوٹے صاحبزادوں، صاحبزادہ زور آور سنگھ اور صاحبزادہ فتح سنگھ کو سر ہند کے مغل گورنر نے قتل کرا دیا تھا۔ ان کی یاد میں ایک گردوارہ تعیمر کیا گیا تھا جو اب سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں شامل ہے۔
فتح گڑھ صاحب ضلع کی سرہند تحصیل میں جکھوالی نام کا ایک گاؤں واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 1500 افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں سکھوں کی اکثریت ہے، کچھ گھر مسلمانوں کے ہیں۔ یہاں عبادت کے لیے مسلمانوں کے پاس مسجد نہیں تھی۔
گاؤں کی ایک بزرگ سکھ خاتون راجندر کور نے گذشتہ دسمبر میں اپنی پانچ مرلہ زمین مسجد بنانے کے لیے وقف کردی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں بہت خوشی ہے کہ ان کے گاؤں کے مسلمانوں کو عبادت کے لیے اپنی مسجد مل گئی۔
راجندر کور کا کہنا تھا: ’ہمیں بہت شدت سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ گاؤں کے مسلمان نماز پڑھنے کے لیے دوسرے گاؤں جاتے ہیں۔ ہم نے گھر میں صلاح مشورہ کر کے ان سے کہہ دیا کہ ہم آپ کو جگہ دیتے ہیں، اب آپ یہاں اپنی مسجد بنا لیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مسجد راجند کور کے بیٹوں کی نگرانی اور سکھوں کی مدد سے بہت تیزی سے تعیمر کی جا رہی ہے۔ راجندر کور کہتی ہیں کہ انھوں نے یہ زمین شہرت حاصل کرنے کے لیے نہیں دی تھی، ’بس جو میرے دل میں تھا وہ میں نے کر دیا۔‘
پنجاب انڈیا کی وہ ریاست ہے جو سنہ 1947 میں تقسیم کے وقت متاثر ہوئی اور یہاں خونریزی کے کئی واقعات سامنے آئے۔ یہاں بسنے والے مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد پاکستان منتقل ہو گئی اور وہاں کے ہندوؤں اور سکھوں نے انڈیا کا رخ کیا۔
انڈین پنجاب میں عبادت گاہیں سرکاری یا گاؤں کی پنچایت کی زمین پر نہیں بنائی جا سکتیں۔ عبادت گاہیں نجی زمین پر ہی بن سکتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے اور ان میں بھی اکثر جگہوں پر ان کے پاس زمینیں نہیں ہیں۔
پنجاب کے شاہی امام مولانا عثمان لدھیانوی کہتے ہیں کہ پنجاب میں تصوف کی تعلیمات کا سب سے زیادہ اثر ہے۔ یہاں سبھی مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔
لدھیانہ کی تاریخی جامع مسجد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور مالیر کوٹلہ کے عمر پورہ گاؤں کی واحد مسجد کے لیے بھی زمین گاؤں کے سکھ سرپنچ کی فمیلی نے دی تھی۔ اس کی تعمیر مقامی سکھوں کی مدد سے مکمل ہوئی ہے۔
سابق سرپنچ سکھجندر سنگھ کا گھر مسجد سے چند سو میٹر کی دوری پر ہے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے گاؤں میں مسجد نہیں تھی۔ گاؤں کے مسلمان پاس کے گاؤں میں نماز پڑھنے جاتے تھے۔ بس یہیں سے مسجد بنانے کا خیال ذہن میں آیا۔‘
سکھجندر سنگھ کا کہنا تھا: ’یہاں کے سبھی لوگوں نے اور آس پاس کے گاؤں والوں نے بھی مسجد کی تعمیر میں کھل کر مدد کی ہے۔ دس گیارہ مہینے میں مسجد بن کر تیار ہو گئی۔ اب پانچ بار اللہ کا نام کانوں میں جاتا ہے۔ بہت خوشی ہوتی ہے۔‘
گاؤں کے لوگ مسجد کی تعمیر سے بہت خوش ہیں۔ مقامی مذہبی رہنما قاری فرقان احمد نے بتایا کہ پنجاب کا ماحول بہت اچھا ہے۔ یہاں سبھی ایک دوسرے کے تہواروں اور خوشی غمی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں کے مسلمانوں کے پاس مسجد کے لیے جگہ نہیں تھی لیکن ہمارے سکھ سرپنچ صاحب نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے پاس گردوارہ ہے تو مسلمانوں کے پاس بھی عبادت کے لیے اپنی جگہ ہونی چاہیے۔ لہذا انھوں نے آگے بڑھ کر اپنی زمین مسجد کو وقف کر دی۔ یہ ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔‘
حالیہ برسوں میں پنجاب کے دیہات میں ایسی درجنوں مساجد وجود میں آئی ہیں جنھیں سکھوں نے تعمیر کرایا ہے۔ شری گرونانک گووند سنگھ کالج میں تاریخ کے پروفیسر ہرجیشور پال سنگھ کہتے ہیں کہ پنجاب میں سکھ کلچر کا غلبہ ہے جس میں سکھ گرو صاحب کی تعلیمات کا بہت اہم رول ہے۔
گروؤں کی تعلیمات میں یہ بھی شامل ہے کہ سبھی مذاہب کو احترام کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ پروفیسر ہرجیشور پال کا کہنا ہے کہ پنجاب کے لوگ تقسیم کے زخم کو اب پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور اب وہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’پنجاب کے لوگ سنہ 1947 کی تقسیم کے واقعات کو ایک زخم کی طرح دیکھتے ہیں اور جو پڑھے لکھے اور باشعور لوگ ہیں وہ اس کے لیے شرمسار بھی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس کا ازالہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر ہرجیشور پال کا کہنا تھا: ’آپ بہت ساری جگہوں پر دیکھ رہے ہوں گے کہ سکھ مسلمانوں کے لیے مساجد بنوا رہے ہیں یا ان کے لیے زمینیں دے رہے ہیں۔ یہ اسی تصوف کی سوچ اور احساس کا حصہ ہے۔‘
حالیہ برسوں میں سکھوں اور ہندوؤں نے پنجاب میں درجنوں مسجدوں کی تعمیر اور ان کی بحالی میں مدد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی مشترکہ وراثت اور روداری کی روایات پر فخر ہے۔