ڈیاگو گارشیا پر ایرانی میزائل داغے جانے کی اطلاعات: کیا ایران کے پاس 3800 کلومیٹر دور تک مار کرنے والا ہتھیار موجود ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جوناتھن بیل
- عہدہ, نامہ نگار برائے دفاعی امور
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایران نے اپنی سرزمین سے تقریباً 3800 کلومیٹر دور برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کی جانب میزائل فائر کیے ہیں، تاہم اس حملے میں تاحال کسی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ ناکام حملہ اس وقت ہوا جب برطانیہ نے گذشتہ رات امریکی افواج کو برطانوی اڈوں کے اضافی استعمال کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے تاحال ڈیاگو گارشیا پر میزائل حملے کرنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
تاہم گذشتہ روز ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ برطانیہ کی طرف سے امریکہ کو فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا ’جارحیت میں شامل ہونا‘ تصور کیا جائے گا۔
ڈیاگو گارشیا بحیرہ ہند میں واقع ایک جزیرہ ہے جہاں ہر طرف سبزہ، سفید ریت سے بھرپور خوبصورت ساحل اور چاروں طرف میلوں تک نیلا پانی پھیلا ہوا ہے۔
لیکن یہ کوئی سیاحتی مقام نہیں، بلکہ یہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جس کے بارے میں دہائیوں سے یہ افواہیں پھیلتی رہی ہیں کہ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ موجود ہے۔
یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِانتظام ہے اور اس کی ملکیت پر ماریشس اور برطانیہ کے درمیان تنازع بھی رہا ہے۔
یاد رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے جمعہ کو کئی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا اڈے پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں لیکن یہ میزائل بحر ہند میں امریکی اور برطانوی مشترکہ فوجی اڈے کو نہیں مارے۔

،تصویر کا ذریعہFARS
دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ایران کی طرف سے ڈیاگو گارشیا پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی طرف میزائل داغے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے آج صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ایران کے حملے پورے خطے میں پھیل چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنا چکے ہیں، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔‘
ڈیاگو گارشیا پر میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ایران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو ڈیاگو گارشیا تک پہنچ سکیں؟
کیا ایرانی میزائل ڈیاگو گارشیا تک پہنچ سکتے ہیں؟
ایران کے پاس 3800 سے کلومیٹر دور تک مار کرنے والے میزائلوں کی موجودگی پر اب شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
برطانوی فوجی اڈہ، جو اکثر امریکہ کے بھی استعمال میں رہتا ہے، ایران سے تقریباً 3800 کلومیٹر دور ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اب تک اس تنازع کے دوران ایران نے جن بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے ان کی حد تقریباً 2 ہزار کلومیٹر تک ہی ہے۔
تاہم کچھ عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے خرمشہر میزائل کی مار کرنے کی حد باقی میزائلوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کے الما ریسرچ اینڈ ایجوکیشن سینٹر کے مطابق خرمشہر میزائل کی رینج تقریباً 3000 کلومیٹر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے شمالی کوریا کے ایک انٹرمیڈیٹ میزائل کی طرز پر بنایا گیا ہے۔
حالیہ تنازع میں جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے میزائل پروگرام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے پاس موجود باقی ماندہ میزائل کے ذخائر میں اب زیادہ تر قلیل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہی ہیں، وہی جنھیں ایران گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل اور پڑوسی خلیجی ممالک پر داغتا رہا ہے۔
ابھی تک اس بات کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں کہ ایران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو ڈیاگو گارشیا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

بحرِ ہند میں واقع فوجی اڈے کی جانب دو ایرانی میزائل داغے جانے کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ وہ اپنے ہدف تک پہنچ سکتے تھے۔
ایران کے پاس اس وقت میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ موثر رینج دو سے ڈھائی ہزار کلومیٹر کے درمیان ہے اور وہ فی الحال یورپی ممالک کو نشانہ بنانے کے قابل نہیں ہے۔













