’پراسرار ڈونر‘ جس نے 21 کلوگرام سونے کی اینٹیں عطیہ کر دیں

    • مصنف, کو ایو
    • عہدہ, بی بی سی
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

’میرے پاس الفاظ نہیں، یہ بہت بڑی رقم ہے۔ میں اس عمل کی صرف تعریف ہی کر سکتا ہوں۔‘

یہ کہنا ہے جاپان کے شہر اوساکا کے میئر ہائیداکی یوکویاما کا جو ایک پراسرار شخص کی جانب سے 21 کلو گرام کی سونے کی اینٹیں بطور عطیہ ملنے پر خوشی سے نہال ہیں۔

سونے کی ان اینٹوں کی مالیت تقریباً 36 لاکھ ڈالرز ہے اور یہ گذشتہ برس ایک نامعلوم ڈونر کی جانب سے شہری حکومت کو دی گئی ہیں تاہم اس مخیر شخص کا کہنا ہے کہ وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔

جمعرات کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے میئر یوکویاما کا کہنا تھا کہ یہ اوساکا میں پانی کے پرانے پائپوں کو تبدیل کرنے کے لیے عطیے کے طور پر دی گئی ہیں۔ اُن کے بقول اس سے قبل اسی مخیر شخص نے پانچ لاکھ ین نقد رقم بھی عطیہ کی تھی۔

واضح رہے کہ تقریباً 30 لاکھ نفوس پر مشتمل جاپان کا شہر اوساکا ملک کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے لیکن بہت سے جاپانی شہروں کی طرح اوساکا کے پانی اور سیوریج کے پائپ پرانے ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے حادثات کا خدشہ رہتا ہے۔

یوکویاما نے پراسرار ڈونر کے بارے میں کہا کہ ’پانی کے پرانے پائپس سے نمٹنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس لیے میرے پاس تعریف کے سوا کچھ نہیں۔‘

اوساکا کے واٹر ورکس بیورو کے مطابق سنہ 2024 میں اوساکا میں سڑکوں کے نیچے پانی کے پائپ لیک ہونے کے 90 سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے گئے۔

شہر کے واٹر ورکس بیورو نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ وہ سونے کا عطیہ دینے والے شخص کے شکر گزار ہیں اور اسے بہترین استعمال میں لایا جائے گا۔

مقامی میڈیا کے مطابق جاپان کے 20 فیصد سے زیادہ پانی کے پائپ 40 سال کی عمر پوری کر چکے ہیں۔

جاپان کے مختلف شہروں میں سیوریج پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے میں نقائص کی وجہ سے سڑکوں پر گڑھے پڑنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گڑھے سیوریج پائپ لائن پھٹنے کی وجہ سے ہوئے۔

گذشتہ برس ٹوکیو میں سڑک پر پڑنے والے گڑھے میں ایک ٹرک اور ٹیکسی گر گئی تھی جس سے اس کے ڈرائیور کی جان چلی گئی تھی۔

اس واقعے نے جاپانی حکام کو ملک بھر میں خستہ حال پائپس کو تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر آمادہ کیا لیکن بجٹ کے مسائل نے اس عمل کو سست کر دیا۔