آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دُودھ دوہتی یشودا اور کپ تھامے کرشنا: انڈین مصور کی ایک ارب 67 کروڑ انڈین روپے میں فروخت ہونے والی پینٹنگ میں خاص کیا ہے؟
- مصنف, جھانوی مول
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
مشہور مصور راجہ روی ورما کی 19ویں صدی کی پینٹنگ انڈیا کی تاریخ میں سب سے مہنگی فروخت ہونے والی پینٹنگ بن گئی ہے۔
یشودا (ہندو دیوی) اور کرشنا کی پینٹنگ بدھ کو دہلی میں منعقد ہونے والی ’سیفرو نارٹ‘ نیلامی میں 1٫67 ارب انڈین روپوں (یا 5.1 ارب پاکستانی روپے) میں فروخت ہوئی ہے۔ اس سے پہلے تاریخی قیمت میں فروخت ہونے والی پینٹنگ مصور ایم ایف حسین کی تھی جس کی قیمت 13٫8 ملین ڈالرز تھی۔
یہ اضافہ انڈیا اور جنوبی ایشیائی ممالک میں آرٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو نمایاں کرتا ہے۔ اس خطے میں تاریخی پینٹنگز جمع کرنے کے شوقین افراد کی دلچسپی کی وجہ سے پینٹنگز کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ پینٹنگ بنانے والے راجہ روی ورما سنہ 1848 میں انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنھیں جدید انڈیا میں مصوری کے علمبردار اور برصغیر کے سب سے زیادہ بااثر فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ پینٹنگ ارب پتی تاجر سائرس پونا والا نے خریدی ہے، جو دنیا میں ویکسین تیار کرنے والے سب سے بڑے سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے بانی اور منیجینگ ڈائریکٹر ہیں۔
انڈین آرٹ آکشن ہاؤس ’سیفرو نارٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں، سائرس پونا والا نے اس پینٹنگ کو ’قومی خزانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ وقتاً فوقتاً اسے عوامی نمائش کے لیے پیش کرتے رہیں گے۔
مصور ورما کے کام کو انڈیا کے نوادرات اور فن کے خزانے ایکٹ کے تحت ’آرٹ ٹریژر‘ قرار دیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انھیں برآمد نہیں کیا جا سکتا اور صرف انڈین خریداروں کو ہی فروخت کیا جا سکتا ہے۔
’سیفرو نارٹ‘ کی صدر اور شریک بانی منال وزیرانی نے کہا ہے کہ اس فن پارے کی اتنی بڑی قیمت انڈیا کی آرٹ کے ساتھ جذباتی وابستگی کی علامت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابقہ دہلی آرٹ گیلری کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر آشیش آنند نے کہا کہ اس بڑی نیلامی کا اثر مارکیٹ پر پڑے گا، کیونکہ اس سے انڈین آرٹ کو ایک اثاثے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیفرونارٹ کے مطابق اس پینٹنگ کو ایک پرائیویٹ کلکٹر نے نیلامی کے لیے پیش کیا تھا۔
راجہ روی ورما کی جانب سے ہندو روایات اور تاریخ کی تصویری جھلک پیش کرنے کی وجہ سے ان کے کام انڈیا میں بڑے پیمانے پر سراہا جاتا ہے۔ اُن کے بنائے ہوئے فن پاروں کی کاپیاں جابجا انڈیا کے گھروں میں آویزاں نظر آتی ہیں۔
’یشودا اور کرشنا‘ سنہ 1890 کی دہائی کی آئل آن کینوس پینٹنگ ہے اور یہ اُس وقت بنائی گئی تھی جب ورما اپنے کریئر کے عروج پر تھے۔ اس میں ہندو دیوتا کرشنا کے بچپن اور اس کی رضاعی والدہ یشودا کے درمیان ایک خوبصورت لمحے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
پینٹنگ میں، یشودا ایک گائے کا دودھ دوہتی نظر آتی ہیں، جبکہ کرشنا اُن کے پاس کپ پکڑے کھڑے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں۔ بچے کی آنکھوں میں شرارت ہے جبکہ یشودا کا چہرہ گرمجوشی اور دیکھ بھال کی عکاسی کرتا ہے۔
راجہ روی ورما ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے ایک انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ ورما کی ذہانت اِسی توازن میں مضمر ہے۔
کرشنا اور یشودا کی تصویر نے طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کے فنکاروں کو متاثر کیا ہے، جنھوں نے انھیں گائے، مندروں کے نقش و نگار اور مقامی مصوری کی روایات میں دکھایا ہے۔ لیکن مؤرخین کے مطابق ورما نے انھیں زیادہ فطری انداز میں پیش کیا۔
آرٹسٹ اے رامچندرن نے لکھا کہ ’خدا کی علامتی تصویر [عام طور پر] محبت اور پیار کی بجائے خوف پیدا کرتی ہے۔‘
آشیش آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فن پارے کی اتنی مہنگی فروخت ظاہر کرتی ہے کہ انڈین آرٹ کو کس طرح دیکھا جا رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جیسے جیسے مارکیٹ پختہ ہو رہی ہے اور معیار بڑھا ہے، ایسے ہی اس نوعیت کے فن پاروں کی قدر کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اُن کے بقول ورما کا یہ فن پارہ ایک معیار ہی تھا جس کی قدر کی گئی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بہترین کام جو نایاب ہے اور جس کی تاریخی اہمیت ہے، اب غیر معمولی قیمتوں پر فروخت ہو رہا ہے اور مارکیٹ کی پختگی کا عکاس ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نوعیت کے فن پاروں کا نایاب ہونا بھی ان کی قدر میں اضافے کا باعث ہے، کیونکہ ایسے شاہکار فن پارے نجی افراد کے پاس ہیں اور شاذ و نادر ہی نیلامی کے لیے آتے ہیں۔