ایک خواب جو کینسر کی تشخیص کی وجہ بنا، کیا واقعی سوتا ہوا دماغ ہمیں پیغام دے سکتا ہے؟

    • مصنف, کیٹ بووی
    • عہدہ, گلوبل ہیلتھ بی بی سی ورلڈ سروس
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

سنہ 2011 میں ایڈلین نے ایک ایسا خواب دیکھا جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

وہ خود کو شدید اداس محسوس کر رہی تھیں اور اپنی والدہ کو یاد کر رہی تھیں، جو تین برس قبل فوت ہو گئی تھیں۔

ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ایڈلین، جن کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، کہتی ہیں کہ ’اسی دوران ایک رات وہ میرے خواب میں آئیں۔‘

انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا: ’مجھے یاد ہے میں نے کہا، اوہ ماں، آخر کار میری آپ سے ملاقات ہو گئی، آپ کیسی ہیں؟‘

اور انھوں نے جواب دیا کہ ’میں ٹھیک ہوں، لیکن میں تم سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔ پلیز جتنی جلد ممکن ہو، اپنا میڈیکل چیک اَپ کرواؤ۔‘

ایڈلین کہتی ہیں کہ انھوں نے اس ’بہت مضبوط پیغام‘ کو سنجیدگی سے لیا اور فوراً ڈاکٹر سے وقت لیا۔ بعد میں ان میں سٹیج ون کینسر کی تشخیص ہوئی، جو اس لیے قابلِ علاج تھا کیونکہ اس کی تشخیص باکل ابتدائی مرحلے پر ہو گئی۔

ایڈلین کہتی ہیں کہ ’میں بہت شکر گزار ہوں۔ ورنہ شاید میں خود اس طرح طبی معائنے کے لیے کبھی نہ جاتی۔‘

دنیا کی مختلف تہذیبوں میں ہزاروں سال سے لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر کرتے آ رہے ہیں۔ قدیم مصری، یونانی اور بابلی معاشروں کا ماننا تھا کہ خواب بھی پیش گوئی کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔

ابراہیمی مذاہب میں، خدا کی طرف سے آنے والے خوابوں کو ’رؤیت‘ یا الہامی دیدار سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ کچھ مقامی ثقافتوں میں خوابوں کو روحانی مددگاروں کی زیارت تصور کیا جاتا ہے۔

ایڈلین کا کہنا ہے کہ وہ چینی روایتی عقیدے سے واقف تھیں کہ آباؤ اجداد خوابوں کے ذریعے پیغامات دے سکتے ہیں مگر انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

اب خوابوں سے دلچسپی آن لائن دنیا میں منتقل ہو چکی ہے۔ ہانگ کانگ کے فورم ’ڈسکس‘ پر صارفین اپنے خوابوں کی تشریح کے طریقے شیئر کرتے ہیں، جبکہ سینکڑوں ریڈِٹ صارفین بتاتے ہیں کہ وہ اپنے خوابوں کا تجزیہ کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ایڈلین جیسے خواب ہمیں آخر کیا بتا سکتے ہیں؟ اور سائنس دانوں اور ماہرِ نفسیات کے مطابق ہمیں ان خوابوں کو کس حد تک سنجیدگی سے لینا چاہیے؟

ہمیں خواب کیوں آتے ہیں؟

ہمارا دماغ خواب دیکھنا پسند کرتا ہے۔

لندن میں واقع امپیریل کالج سے وابستہ نیورو سائنس دان ڈاکٹر عابدیمی اوتائیکو کے مطابق جب ہم ریپڈ آئی موومنٹ (آر ای ایم) نیند میں ہوتے ہیں تو ہم ’تقریباً یقینی طور پر خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی مجموعی نیند کے وقت کا تقریباً ایک تہائی حصہ خواب دیکھتے ہوئے گزار سکتے ہیں۔

درحقیقت، اگر گہری نیند کی کمی کے باعث ہم خواب نہ دیکھ سکیں تو دماغ اگلی بار ہمیں زیادہ واضح اور شدت والے خواب دکھاتا ہے، اس عمل کو آر ای ایم ری باؤنڈ کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عابدیمی اوتائیکو کا مزید کہنا ہے کہ ’جسم دراصل خواب دیکھنا چاہتا ہے، اور جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے، وہ اس کمی کو پورا کر لیتا ہے۔‘

یہ بات کہ ہم آخر سوتے کیوں ہیں، اب تک سائنس کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر محققین کا خیال ہے کہ نیند دماغ کو بحال ہونے میں مدد دیتی ہے اور اسے دن بھر کی یادداشتوں کو ترتیب دینے کا وقت فراہم کرتی ہے۔

دماغی سکینز سے یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ نیند کے دوران دماغ کی سیٹنگز تبدیل ہو جاتی ہیں، جس سے یہ طے ہوتا ہے کہ ہم سوتے ہوئے خواب کیسے دیکھتے ہیں۔

جب ہم خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں تو دماغ کے فرنٹل لوبز، جو ہمیں منطقی اور عقلی فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں، کافی حد تک غیر فعال ہو جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، لمبک سسٹم، جو جذبات سے وابستہ ہے، حد سے زیادہ سرگرم ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر اوتائیکو کہتے ہیں ’یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارے خواب اکثر اتنے عجیب ہوتے ہیں اور بظاہر ان کا کوئی خاص مطلب سمجھ نہیں آتا۔‘

کیا خوابوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہییں؟

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے خوابوں کا مواد بیداری کی حالت میں بہتر فیصلے کرنے میں ہمیں آمادہ کر سکتا ہے۔

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ افراد جو تمباکو نوشی ترک کر چکے تھے اور اپنے خوابوں میں خود کو دوبارہ سگریٹ پیتے دیکھا، ان میں دوبارہ سگریٹ شروع کرنے کا امکان کم تھا۔ اسی طرح طلاق یافتہ افراد پر کی گئی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ اپنے سابق شریکِ حیات کے بارے میں خواب دیکھتے تھے، وہ ایک سال بعد ذہنی طور پر زیادہ صحت مند تھے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے خوابوں کے محقق اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن کہتے ہیں کہ ’وہ کسی ایسی چیز پر کام کر رہے ہوتے ہیں جو جذباتی طور پر مشکل ہوتی ہے۔ اور اہم بات یہ ہے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ خواب کا مواد مثبت ہو یا منفی۔‘

درحقیقت، دونوں مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ بعض اوقات منفی خواب لوگوں کو اپنے مسائل سے نمٹنے میں مثبت خوابوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن وضاحت کرتے ہیں کہ ’آپ اس تجربے کو سمجھ رہے ہوتے ہیں اور تعمیری انداز میں اس سے نمٹ رہے ہوتے ہیں۔‘

خواب ہمیں مسائل حل کرنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ جن شرکا سے ’پزل‘ یعنی پہیلی حل کرنے کو کہا گیا، وہ افراد جنھوں نے اس کے بارے میں خواب دیکھا تھا، بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔

ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن کے مطابق اس کی وجہ دماغ میں موجود ’طاقتور امتزاج‘ ہو سکتا ہے یعنی ایک طرف دماغ کو مسئلے پر کام کرنے کے لیے اضافی وقت ملنا، اور دوسری طرف خوابوں کے ذریعے اسے زیادہ تخلیقی انداز میں دیکھنے کی صلاحیت۔

روزمرہ زندگی میں اس کا اظہار اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمیں کسی ایسے مسئلے کا اچانک حل یا خیال سوجھ جائے، جس کے بارے میں ہم پہلے ہی بیداری میں سوچ رہے تھے۔

ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن کہتے ہیں کہ ’خواب گویا انھیں اس سمت میں ایک ہلکا سا دھکا دے دیتے ہیں۔‘

کیا خواب ہمارے اصل جذبات کو ظاہر کر سکتے ہیں؟

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خواب ہمارے چھپے ہوئے یا حقیقی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ سوتا ہوا دماغ بھی اُن ہی موضوعات میں دلچسپی رکھتا ہے جن سے متعلق ہمارا ذہن جاگنے کے دوران سوچتا ہے۔

ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن کا کہنا ہے کہ انھوں نے خوابوں پر تحقیق کے دوران ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنھوں نے خوابوں کی بنیاد پر اپنے شریکِ حیات سے علیحدگی اختیار کر لی۔ تاہم ان تمام افراد نے پہلے ہی اپنے تعلقات میں مسائل کی نشاندہی کر رکھی تھی۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’خواب نے بس انھیں وہ اضافی سا دھکا دیا جس کی انھیں ضرورت تھی۔ انھیں یوں لگا جیسے وہ خود کو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں، مگر یہ سمجھ دراصل اُن باتوں سے مطابقت رکھتی تھی جن پر وہ پہلے ہی یقین رکھتے تھے۔‘

تو پھر کیا ہمیں اس وقت فکر مند ہونا چاہیے جب ہم کسی غیر متوقع شخص کے بارے میں خواب دیکھیں؟

ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن کہتے ہیں کہ ’اگر آپ ایک خوش، محبت بھرے اور کامیاب تعلق میں ہیں، اور ایک رات آپ خواب میں کسی اور کے ساتھ تعلق بناتے دیکھتے ہیں، تو یہ بالکل ٹھیک ہے۔۔ یہ عام بات ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’آپ کو اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یہ لازمی طور پر کسی مسئلے یا اشارے کی علامت نہیں ہوتا۔‘

کیا ہمارے خواب مستقبل کی پیش گوئی کر سکتے ہیں؟

ہمارا دماغ اس بات کے لیے خاص طور پر حساس ہوتا ہے کہ جب کوئی خواب بظاہر مستقبل کی پیش گوئی کرتا نظر آئے، تو ہم اسے فوراً محسوس کریں اور پھر اسے یاد بھی رکھیں، خاص طور پر جب وہ خواب حقیقی زندگی کے کسی واقعے سے میل کھا جائے۔

نیورو سائنس دان ڈاکٹر عابدیمی اوتائیکو کہتے ہیں کہ ’جب بھی آپ کوئی خواب دیکھتے ہیں اور وہ حقیقی دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا، تو عموماً آپ اسے بھول جاتے ہیں۔‘

لیکن خوابوں کے ’نفسیاتی‘ یا پیش گوئی جیسے محسوس ہونے کی ایک اور ممکنہ وجہ بھی ہو سکتی ہے جسے بعض نظریات میں دماغ کی ’انٹروسیپشن‘ یعنی اندرونی احساس کی صلاحیت سے جوڑا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اوتائیکو وضاحت کرتے ہیں ’کچھ لوگ اسے ہماری چھٹی حِس بھی کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ دماغ کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ جسم کی اندرونی حالت کو محسوس کر پاتا ہے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ کے وہ حصے جو انٹروسیپشن میں شامل ہوتے ہیں، اکثر اُن حصوں سے باہم گڈمڈ ہو جاتے ہیں جو خواب دیکھنے میں فعال ہوتے ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ بعض خواب ہمیں بیماری یا جسمانی خرابی سے پہلے کا اشارہ دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر عابدیمی اوتائیکو کہتے ہیں کہ ’یہ بظاہر ایک معقول طریقۂ کار معلوم ہوتا ہے، جو ان تجربات کی وضاحت کر سکتا ہے۔‘

ہمیں ڈراؤنے خوابوں پر کتنی توجہ دینی چاہیے؟

نیورو سائنس دانوں، خصوصاً ڈاکٹر عابدیمی اوتائیکو کی بڑھتی ہوئی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہمارے خواب بعض دماغی بیماریوں کے پیدا ہونے کے خطرے کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر اوتائیکو کہتے ہیں کہ ’جتنی زیادہ بار آپ کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، اتنا ہی ڈیمنشیا اور پارکنسنز جیسی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق اس کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کہ ’ڈراؤنے خواب ان بیماریوں کی ابتدائی علامت ہو سکتے ہیں، ڈراؤنے خواب خود صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، یا پھر ڈراؤنے خواب اور یہ بیماریاں، دونوں کی کوئی مشترکہ وجہ ہو سکتی ہے، مثلاً جینیاتی عوامل۔ فی الحال یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ان نظریات میں سے کون سا درست ہے۔‘

ڈاکٹر عابدیمی اوتائیکو کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہماری صحت بہتر بنانے کا ایک اچھا موقع ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ: ذہنی دباؤ کم کرنا، معیاری اور بھرپور نیند لینا، سونے سے پہلے ڈراؤنی فلموں سے پرہیز کرنا، یہ سب اقدامات ڈراؤنے خواب کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

سنگین صورتِ حال کے لیے دیگر طریقے بھی موجود ہیں۔

امیج ریہرسل تھراپی میں مریض بار بار آنے والے ڈراؤنے خواب کے انجام کو ذہنی طور پر بدلنے کی مشق کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، بلڈ پریشر کی دوا ’پرازوسِن‘ ایسی ہے جو ڈراؤنے خوابوں کو روک سکتی ہے۔

ڈاکٹر اوتائیکو مزید کہتے ہیں کہ ’یہ بات انتہائی قرینِ قیاس ہے کہ ڈراؤنے خوابوں کا علاج نہ صرف فوری بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر بھی ہماری صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔‘

کب خوابوں کا تجزیہ مفید ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر ڈیلن سیلٹرمن کا کہنا ہے کہ خوابوں میں مقررہ یا جامد علامتی معنی تلاش کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں فرد کے ذاتی حالات اور پس منظر کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں:’ایک شارک شاید سمندری حیات کے ماہر کے لیے کچھ اور معنی رکھتی ہو، جبکہ ایک ڈینٹسٹ کے لیے اس کا مطلب بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ علامات کے بجائے موضوعات پر غور کرنا ہمیں خود کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ممکن ہے آپ کسی ایسے عزیز کے بارے میں بار بار خواب دیکھ رہے ہوں جو فوت ہو چکا ہو، یا کسی ایسی ملازمت کے بارے میں جسے آپ مستقبل میں حاصل کرنا چاہتے ہوں۔۔۔ یا پھر اپنے دوستوں اور قریبی رشتوں کے بارے میں۔‘

ڈاکٹر سیلٹرمن کے مطابق ان موضوعات پر نظر رکھنا ہمیں خود اپنی شخصیت اور اپنے تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور تعلقات وہ موضوع ہیں جن کے بارے میں ہم سب سے زیادہ خواب دیکھتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگر خوابوں کی کوئی اہمیت ہے بھی، تو اس کا تعلق غالباً ہماری سماجی زندگی سے ہی ہوتا ہے۔‘

ایڈلین کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے خوابوں پر پہلے سے زیادہ توجہ دیتی ہیں اور انھیں اپنے جذبات پر غور کرنے کی یاد دہانی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہمیں بس اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ پیغام کیا ہے۔ اپنے اندر گہرائی میں جھانکیں، وہیں آپ کو جواب مل جائے گا۔‘