انسان کے زمین سے سب سے زیادہ دوری کے سفر کا ریکارڈ بنانے کے بعد آرٹیمس دوم کی بحفاظت واپسی

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس دوم مشن کے خلا باز چاند کی جانب اپنے دس روزہ تاریخی سفر کی تکمیل کے بعد بحفاظت زمین پر پہنچ گئے ہیں۔

چار دن کے سفر کے بعد خلابازوں کو لے جانے والا کیپسول امریکہ کے ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق جمعے کی شب آٹھ بج کر سات منٹ پر (پاکستانی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح پانچ بج کر سات منٹ پر) ملک کے مغربی ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترا۔

واپسی کے بعد خلابازوں کو کیپسول سے نکال کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحرالکاہل میں موجود امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس جان پی مرتھا پر منتقل کیا گیا جہاں طبی معائنے کے بعد ان کی حالت تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔

خلابازوں کی واپسی کے بعد ناسا کے سربراہ جیرارڈ آئزکمین نے کہا کہ ’ہم نے چاند پر خلابازوں کو بھیجنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے اور یہ تو صرف آغاز ہے۔‘

مشن پر موجود خلاباز کمانڈر ریڈ وائزمین نے بحفاظت لینڈنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیم کے ارکان مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

خلابازوں کی واپسی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امت کھشرتیہ کا کہنا تھا کہ ’جو کام ہمیں کرنا ہے وہ اس سے کہیں بڑا ہے جو ہم کر آئے ہیں۔ آئیں مل کر اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں جسے ہم نے شروع کیا۔ آئیں وہاں (چاند پر) پرچم نصب کر کے چلے آنے کے لیے نہیں بلکہ رہنے کے لیے چلیں۔‘

اس مشن کے دوران کسی انسان کے زمین سے سب سے زیادہ دوری کے سفر کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا ہے۔

گذشتہ منگل کو چاند کے عقبی حصے کی طرف سے گزرنے کے عمل کے دوران خلائی جہاز پر سوار چاروں خلاباز اس وقت زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر سفر کرنے کا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوئے جب وہ کرۂ ارض سے چار لاکھ چھ ہزار سات سو اکہتر (406,771) کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچے۔

اس سے قبل زمین سے سب سے دور سفر کا ریکارڈ اپالو 13 کے عملے کے پاس تھا جو 1970 میں چار لاکھ ایک سو اکہتر کلومیٹر دور پہنچے تھے۔

زمین سے ریکارڈ فاصلہ، روشنی کی سطح اور مخصوص مدار کا مطلب ہے کہ اورائن کے عملے نے ایسے مناظر دیکھے ہیں جو کسی انسان نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔

مشن کمانڈر ریڈ وائز مین کا کہنا ہے کہ اورائن خلائی جہاز کے عملے نے اس سفر میں ’ایسے مناظر دیکھے جو کسی انسان نے پہلے کبھی نہیں دیکھے‘ جبکہ پائلٹ وکٹر گلوور کا کہنا تھا کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے بیان کرنے کے لیے کوئی ’صفاتی الفاظ‘ موجود نہیں۔

چین اور انڈیا دونوں نے گذشتہ چند برسوں میں چاند کے دورافتادہ حصے کی تصاویر لینے کے لیے خلائی مشن بھیجے ہیں تو کیا انسانوں کا خود اسے دیکھنا سائنسی نقطہ نظر سے دلچسپ ہے یا صرف انسانی تحقیق کے حوالے سے؟ اس بارے میں یونیورسٹی آف آکسفرڈ میں ایسٹرو فزکس کے پروفیسر کرس لنٹوٹ کا کہنا ہے کہ ’آرٹیمس اور اس کے عملے کی جانب سے لی جانے والی تصاویر کی قدر سائنسی سے زیادہ فنکارانہ ہے۔‘

سفر کے دوران امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں موجود مشن کنٹرول سے خلابازوں کا کا رابطہ مسلسل برقرار رہا ہے اور ناسا کے اہلکاروں کے سکون بخش الفاظ خلائی جہاز کے عملے کے لیے گھر سے ایک تسلی بخش ربط جیسے تھے۔

لیکن یہ ربط اس وقت تقریباً 40 منٹ کے لیے ٹوٹ گیا جب خلا باز پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح چار بجے کے قریب چاند کے عقب سے گزرے اور خلائی جہاز اور زمین کے درمیان رابطے کی وجہ بننے والے ریڈیو اور لیزر سگنلز چاند کے درمیان میں آنے کی وجہ سے بند ہو گئے۔

40 منٹ کی خاموشی کے بعد جب یہ رابطہ دوبارہ قائم ہو تو اورائن پر موجوش مشن سپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے کہا ’زمین کی طرف سے دوبارہ (آواز) سن کر بہت خوشی ہوئی۔‘

امید ہے کہ یہ مواصلات کا تعطل جلد ہی ماضی کی بات بن سکتی ہے۔

انگلینڈ کے جنوب مغرب میں کارن ول کے گون ہلی ارتھ سٹیشن کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر میٹ کوسبی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اس وقت ضروری ہو جائے گا جب ناسا اور دنیا بھر کے دیگر خلائی ادارے چاند پر اڈے بنانا شروع کریں گے اور دریافت کے پروگرامز میں اضافہ کریں گے۔

’چاند پر پائیدار موجودگی کے لیے آپ کو ہمہ وقت رابطے کی ضرورت ہے۔ آپ کو پورے 24 گھنٹے چاہییں، چاہے آپ عقبی جانب بھی ہوں کیونکہ وہ علاقہ بھی دریافت ہونا چاہے گا۔‘

یورپی خلائی ایجنسی کے مون لائٹ جیسے پروگرام چاند کے گرد مصنوعی سیاروں کا ایک نیٹ ورک بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں مسلسل اور قابل اعتماد مواصلاتی کوریج فراہم کی جا سکے۔