آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میں نے میزائل تباہ ہوتے اور عمارتوں سے دھواں نکلتے دیکھا‘: کیا دبئی ایک محفوظ مقام ہونے کا درجہ کھو رہا ہے؟
- مصنف, ایلس ڈیویز اور گبرئیلا پومروئے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
دبئی کی فضا میں اڑتے ہوئے میزائل دیکھ کر ہوفت گولان کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سب اُن کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔
اسرائیلی کینیڈین نژاد انفلوئنسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں یوں میزائلوں کو انٹرسیپٹ (روکتے اور تباہ کرتے ہوئے) دیکھنے کی عادت نہیں ہے۔ مگر میں نے حالیہ دنوں میں ایسا ہوتے ہوئے دیکھا اور عمارتوں سے دھواں نکلتے ہوئے بھی۔‘
دبئی میں انفلوئنسرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اُن میں سے ایک ہوفت گولان بھی ہیں جنھوں نے متحدہ عرب امارات پر داغے جانے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر خوف کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی جانب سے گذشتہ چار روز سے یہ میزائل اور ڈرون امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے ردعمل کے طور پر داغے جا رہے ہیں۔
اگرچہ ان میزائلوں اور ڈرونز کی اکثریت کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی انٹرسیپٹ یعنی فضا میں روکا گیا، مگر بہت سے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے جس کے بعد دبئی کی بہت سی مشہور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں پام جمیرا کے علاقے میں موجود دی پالم ہوٹل اور برج العرب ہوٹل بھی شامل ہیں۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابوظہبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور یہاں ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
دبئی نے کئی سال سے اپنی شہرت ایک ایسی جگہ کے طور پر بنائی ہے جو گلیمر سے بھرپور ہے اور سیاحت کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیات کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ غیر مستحکم مشرق وسطیٰ کے خطے میں بہت سے لوگ دبئی کا انتخاب رہائش کے لیے بھی کرتے ہیں۔
لیکن موجودہ صورتحال میں دبئی میں رہائش پذیر ارابیلا چی، جو لوو آئی لینڈ میں شریک رہی ہیں، نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی ماڈل اور انفلوئنسر پیٹرا ایکلسٹون نے کہا کہ ’ہم یہاں محفوظ محسوس کرنے آئے تھے اور جب ایسا محسوس ہونے لگا تھا تو یہ سب ہو گیا۔‘
انگلینڈ کے سابق فٹبالر ریو فرڈینینڈ نے اپنے شو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خوفناک ہے کہ آپ میزائل، لڑاکا طیاروں کی آوازیں سُنتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کیا ہو رہا ہے، ہمارے اوپر، اور آپ کو بمباری کی آواز آتی ہے، اور ہمیں کچھ علم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ وہ اب بھی دبئی میں غیرمحفوظ محسوس نہیں کر رہے۔
دبئی میں موجود بہت سے انفلوئنسرز متحدہ عرب امارات کی حکومت کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات میں حکومت پر تنقید غیر قانونی سمجھی جاتی ہے۔ منگل کے دن دبئی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’افواہیں، غلط معلومات یا ایسا مواد جو سرکاری موقف کی تردید کرتا ہو یا مفاد عامہ کو خطرے میں ڈالتا ہو یا عوام کو پریشان کرنے کا سبب بنے، شیئر کرنا منع ہے اور خلاف ورزی کرنے پر دو لاکھ درہم تک جرمانہ یا قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔‘
اس کے باوجود غیر ملکی کمیونٹی میں بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیا دبئی ایک محفوظ مقام کا درجہ کھو چکا ہے اور کیا اب اپنی پرانی شہرت بحال کر پائے گا؟
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق اب تک 174 بیلسٹک میزائل، آٹھ کروز میزائل اور 700 کے قریب ڈرون ملک کی جانب آتے دیکھے گئے جن کی اکثریت کو روک لیا گیا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر یاسر الششتاوی کا کہنا ہے کہ ’دبئی کی بطور ترقی یافتہ اور جدید شہر کی بہترین شہرت کو دھچکہ لگا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ شہر میں دھویں کے بادل دیکھتے ہیں، دھماکوں کی آوازیں سنتے ہیں، تو سکیورٹی اور حفاظت کی تصویر ختم ہو جاتی ہے۔‘
دبئی میں 20 سال تک رہائش پذیر رہنے والے یاسر کہتے ہیں کہ ’اگر نقصان زیادہ نہ بھی ہو تو فیئرمونٹ ہوٹل جیسی عمارات ایک ایسے شہر کی علامت ہیں جہاں امیر لوگ سرمایہ کاری محفوظ طریقے سے کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہونے میں کئی سال لگیں گے۔
کولمبیا یونیورسٹی کی ہی کیرن ینگ جو سینٹر فار گلوبل انرجی پالیسی میں سینیئر ریسرچ سکالر ہیں کہتی ہیں کہ ایران کی جانب سے ان مقامات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ ’غیرمعمولی تھا۔‘
چھ سال تک دبئی میں رہنے والی کیرن کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگوں کے لیے یہ سوچنا ناممکن ہو گا کہ سیاحت کا انفراسٹرکچر بھی نشانہ بن سکتا ہے۔‘
تاہم ہوفت گولان، جو خود کو ٹی وی شخصیت کہتی ہیں، کے خیال میں دبئی کی شہرت زیادہ نہیں بدلے گی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ دبئی کا فضائی دفاع کتنا مضبوط ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ سوموار کو شاپنگ مال گئی تھیں جہاں معمول سے کچھ کم رش تھا لیکن پھر بھی بہت سے لوگ تھے۔ ہوفت کہتی ہیں کہ وہ جس جزیرے پر رہتی ہیں وہاں لوگ حملے کے بعد بھی سمندر میں تیراکی کر رہے تھے۔
دبئی کی رہائشی افشاں فاروقی بھی خود کو غیرمحفوظ نہیں سمجھ رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس سب کے باوجود میں خود کو محفوظ سمجھتی ہوں۔ یہ قدرتی بات ہے کہ انسان کو پریشانی ہوتی ہے لیکن روز مرہ کے کام ہو رہے ہیں، سکول کھلے ہوئے ہیں اور لوگ باہر نکل رہے ہیں۔‘
انڈیا سے تعلق رکھنے والی افشاں کہتی ہیں کہ ’ہم خوف میں نہیں جی رہے۔‘
دبئی میں ہونے والے حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی یہاں پہنچنے والے ول بیلی کہتے ہیں کہ ’دبئی میزائل روکنے کا بہت اچھا کام کر رہا ہے اور عوام کو آگاہ رکھے ہوئے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
تاہم برطانیہ سے تعلق رکھنے والے فٹنس انفلوئنسر کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے کوچنگ کاروبار کو دبئی منتقل کرنے پر دوبارہ غور کریں گے۔
بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب ہم اس صورت حال کے بیچ میں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ میں یہاں رہوں گا یا واپس چلا جاؤں گا۔‘
’اس وقت میں نہیں جانتا۔ فی الحال تو انتظار کرنا ہے اور دیکھنا ہے کہ کیا ہوتا ہے۔‘