آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چیف آف سٹاف کے ہاتھ پر بندھی ڈیوائس اور حملوں کی نگرانی کرتے ٹرمپ: انتہائی حساس ’وار روم‘ کی کہانی بیان کرتی چار تصاویر
- مصنف, برنڈ ڈیبس مین، ورچوئل نیوز روم ٹیم
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ اور اُن کی کابینہ کے اہم ارکان کی چار تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تصاویر ایران پر امریکی اور اسرائیلی افواج کے سنیچر کی صبح کیے گئے ابتدائی فضائی حملوں کے موقع پر لی گئی تھیں۔
ان تصاویر میں صدر ٹرمپ کو اِن حملوں کی نگرانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تصاویر میں موجود افراد اور پس منظر کی تفصیلات پر قریب سے نظر ڈال کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُن نازک لمحات میں کمرے کے اندر کیا ہو رہا تھا۔
جب امریکی صدور کسی ملک یا شخصیت کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہیں تو وہ عام طور پر وائٹ ہاؤس کے اس مقام پر بیٹھتے ہیں جسے ’سچویشن روم‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ سنیچر کی صبح کے ابتدائی اوقات میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کے وقت وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔
وہ فلوریڈا میں اپنے لگژری محل اور ممبرز کلب ’مار اے لاگو‘ میں تھے۔ اسی جگہ انھوں نے اتوار کا روز بھی گزارا، جہاں سے وہ حملوں کی نگرانی کرتے رہے اور وقتاً فوقتاً صحافیوں سے بات بھی کرتے رہے۔
مار اے لاگو میں موجود سچویشن روم مکمل طور پر اس قابل ہے کہ صدر ٹرمپ وہاں سے فوجی کارروائیوں کی نگرانی کر سکیں، جیسا کہ وہ ماضی میں بھی کر چکے ہیں۔
پہلی بار 2017 میں مار اے لاگو میں ایک ’سینسیٹو کمپارٹمنٹڈ انفارمیشن فیسلٹی‘ (ایس سی آئی ایف) قائم کی گئی تھی یعنی ایک ایسی جگہ یا کمرہ جہاں انتہائی خفیہ معلومات پر بات کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے دوسری صدارتی مدت کا حلف لینے کے بعد اس فیسلٹی کو دوبارہ فعال کیا ہے۔
اس نوعیت کے حساس مقامات اور کمروں تک لوگوں کی رسائی انتہائی سخت کنٹرول کے تحت کی جاتی ہے اور ایسے مقامات پر الیکٹرانکس اور دیگر روز مرہ استعمال کے آلات لے جانے کے حوالے سے سخت قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیچے دی گئی تصویر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سفید ٹی کیپ پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس پر ’یو ایس اے‘ لکھا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی کمرہ ہے جہاں سے صدر ٹرمپ نے جنوری 2026 میں وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی فوجی کارروائی کی نگرانی کی تھی۔
اسی تصویر میں پس منظر میں موجود ایک نقشے پر خطے میں اہم فوجی پوزیشنیں دکھائی دے رہی ہیں، جن میں دو ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس اور امریکی فوجی اڈے بھی شامل ہیں۔
ایران میں سُرخ نشانات کی مدد سے اُبھارے گئے مقامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے اندر امریکی و اسرائیلی اہداف کا دائرہ وسیع ہے، یہ گذشتہ سال جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے محدود حملوں کے موقع پر سامنے آنے والے اہداف سے تعداد میں کہیں زیادہ ہیں۔
اس تصویر میں دھندلے دکھائی دینے والے شخص سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف ہیں جو کہ صدر ٹرمپ سے بات کرتے نظر آتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اُن کی ایجنسی، سی آئی اے، کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کا پیچھا کر رہی تھی اور انھی کی نشاندہی پر وہ حملے ممکن ہوئے جن میں بالآخر سنیچر کی صبح ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت ہوئی۔
اسی تصویر میں مارکو روبیو بھی ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ کا کردار ادا کرنے کے علاوہ، روبیو گذشتہ نو ماہ سے قائم مقام قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں، اور فی الحال وہ صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے معاملات پر بنیادی مشیر ہیں۔
وہ کانگریس کے آٹھ سینیئر رہنماؤں کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ (ایران میں جاری آپریشن کو دیا گیا امریکی نام) کے بارے میں حملوں سے قبل بریف کرنے کے بھی ذمہ دار تھے۔
اس تصویر میں نظر آنے والی واحد خاتون سوزی وائلز ہیں، جو صدر کی چیف آف سٹاف اور وائٹ ہاؤس میں ایک خاموش مگر بااثر شخصیت ہیں۔
ان کے پیچھے اُن کے نائب ڈین اسکاوینو بھی نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ ان کا کوئی باضابطہ قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی میں کردار نہیں ہے، لیکن وہ روزانہ کی بنیاد پر صدر سے رابطے میں رہتی ہیں اور ان کے مشاورت کاروں کے قریبی حلقے میں شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس کمرے کے اندر سے مزید دو تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
ایک میں چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین کو دکھایا گیا ہے، جو امریکی فوج کے سب سے اعلیٰ عہدے کے افسر ہیں۔ وہ ایک بڑی کمپیوٹر سکرین پر بحیرہ عرب میں ایران کے ایک فوجی اثاثے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
عام طور پر اعلیٰ فوجی افسران صدر سے ملاقات کے وقت وردی میں نظر آتے ہیں، لیکن یہاں جنرل کین نسبتاً غیر رسمی لباس میں ملبوس ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں گذشتہ ہفتے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کین نے صدر کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ ایران میں ایک طویل جنگ میں الجھ سکتا ہے، لیکن ٹرمپ نے اس نوعیت کی میڈیا رپورٹس کو ’جعلی خبریں‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل کین کا خیال ہے کہ ممکنہ تنازع ’آسانی سے جیتا جا سکتا ہے۔‘
تیسری جاری ہونے والی تصویر میں امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ٹرمپ کے بائیں جانب بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ وہ منگل (آج) کو (مارکو روبیو، ریٹکلف اور کین کے ساتھ) کانگریس کو ایران کی صورتحال پر بریف کرنے والے ہیں۔
اسی تصویر میں وائلز کے ہاتھ پر ایک ایسی ڈیوائس بھی نظر آتی ہے جو بظاہر سمارٹ واچ لگتی ہے۔ ایک انتہائی حساس اور محفوظ سہولت میں اس نوعیت کے الیکٹرانک ڈیوائس کا ہونا غیر معمولی ہے کیونکہ اس سے سکیورٹی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ یہ سمارٹ واچ نہیں بلکہ ایک ہیلتھ اور فٹنس ٹریکر کمپنی کی ڈیوائس ہے، جس میں نہ مائیکروفون ہے اور نہ جی پی ایس ٹریکنگ۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آخری تصویر واشنگٹن ڈی سی کے اصل سچویشن روم کی ہے، جہاں سے نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جاری کارروائی کی نگرانی کی۔ دیوار پر نائب صدر کا سرکاری نشان بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں واقع سچویشن روم 5,000 مربع فٹ (460 مربع میٹر) پر مشتمل ہے، جس میں تین محفوظ کانفرنس رومز، جدید ترین مواصلاتی آلات اور 100 سے زائد افراد پر مشتمل عملہ موجود ہوتا ہے۔ اسے آخری بار سنہ 2023 میں 50 ملین ڈالر کی لاگت سے اپ گریڈ کیا گیا تاکہ یہ اعلیٰ ترین حفاظتی تقاضوں پر پورا اتر سکے۔
جے ڈی وینس، جو چار سال تک امریکی میرینز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے سابقہ امریکی حکومتوں کو طویل غیر ملکی جنگوں میں الجھنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے انھوں نے کہا تھا کہ ایران میں کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں امریکہ کے ’سالہا سال تک ایک نہ ختم ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں پھنسنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘
ان کے ساتھ سچویشن روم میں ٹلسی گیبارڈ (ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس) جو دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے والی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں، بھی موجود تھیں۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور وزیر توانائی کرس رائٹ بھی یہاں موجود تھے۔
اتوار کے اختتام تک، امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول، فضائی دفاع، بیلسٹک میزائل اہداف اور پاسداران انقلاب کا ہیڈکوارٹر بھی شامل تھے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سنیچر کو شروع ہونے والے حملوں میں فوری طور پر ہلاک ہو گئے تھے، ان کے ساتھ ہی ایران کے اعلیٰ فوجی اور انٹیلیجنس رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد بھی مارے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ لیکن ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیج فارس میں شہری اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کی بارش کر دی۔
امریکی حکام نے آپریشن کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں دی، لیکن دو مارچ کو پینٹاگون نے امریکی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ ایک ’لاانتہا جنگ‘ نہیں ہو گی۔ دوسری جانب ایران بدستور ڈٹا ہوا ہے اور لڑائی جاری ہے۔