آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اس کے طویل مدتی اثرات ہوں گے‘: ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا پاکستان کو پیغام
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے باہمی طور پر ایک قابل قبول حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس کے پاکستان میں کرکٹ پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایک بیان میں آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اس نے حکومت پاکستان کی جانب سے دیے گئے بیان کا نوٹس لیا ہے جس میں پاکستانی ٹیم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں جزوی طور پر شرکت کے حوالے سے ہدایت دی گئی ہے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سرکاری موقف کا منتظر ہے تاہم جزوی شرکت کا فیصلہ عالمی کھیلوں کے ایونٹ کے بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ’عالمی ایونٹ میں شرکت کرنے والی تمام ٹیموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق برابر کی بنیاد پر مقابلہ کریں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے ٹورنامنٹس کی بنیاد کھیل کی دیانت داری، مسابقت، تسلسل اور انصاف پر ہوتی ہے اور اس میں جزوی شرکت مقابلے کی روح اور تقدس کو مجروح کرتی ہے۔
بیان میں آئی سی سی نے کہا کہ ’اگرچہ وہ قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتی ہے تاہم یہ فیصلہ عالمی کھیل یا دنیا بھر کے شائقین بشمول پاکستان کے لاکھوں مداحوں کے مفاد میں نہیں ہے۔‘
بیان کے مطابق ’آئی سی سی امید کرتی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ غور کرے گا کہ اس فیصلے کے طویل المدت نتائج پاکستان میں کرکٹ کے لیے کیا ہوں گے۔ اس فیصلے کے اثرات کرکٹ کے عالمی ماحول پر بھی پڑیں گے، پاکستان جس کا حصہ بھی ہے اور اس سے استفادہ بھی کرتا ہے۔‘
آئی سی سی نے کہا کہ اس کی ترجیح ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد ہے اور یہ پی سی بی سمیت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سبھی ممبران کی ذمہ داری بھی ہے۔
بیان میں کہا گیا: ’آئی سی سی امید کرتی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک ایسے فیصلے پر پہنچے گا جو سبھی کے لیے قابل قبول ہو اور سب فریقوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے کیا فیصلہ کیا تھا؟
پاکستان کی حکومت نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے تاہم ٹیم انڈیا کے خلاف اپنا میچ نہیں کھیلے گی۔
اتوار کو ایک بیان میں حکومت کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔‘
پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی دونوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت نہ دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سے ایک ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ’وزیرِ اعظم نے تمام آپشنز کو مدِ نظر رکھ کر معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی ہے۔‘
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے کو ’نا انصافی‘ قرار دیتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش پر بھی وہی اُصول لاگو ہونا چاہیے، جو کسی اور پر ہوتا ہے۔ اگر ایک ملک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی ملک میں کھِیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر بنگلہ دیش کو بھی یہ حق ہونا چاہیے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ اب حکومت کرے گی اور اگر بنگلہ دیش کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو پھر آئی سی سی چاہے تو 22 ویں ٹیم شامل کر لے۔‘
جب محسن نقوی سے پوچھا گیا کہ ’اگر پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں کھیلتا ہے تو ’پلان بی‘ کیا ہے، تو اُنھوں نے جواب دیا کہ ’پہلے فیصلہ آنے دیں، ہمارے پاس پلان اے، بی، سی اور ڈی ہیں۔‘
’بنگلہ دیش کو اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے‘
اس سے قبل انڈیا کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو ٹی20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے ورغلایا ہے۔
انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ رواں سال انڈیا کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم پاکستان نے اس معاملے میں ’بے وجہ مداخلت‘ کی۔
انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے ایک انٹرویو میں راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش کھیلے۔ ہم نے انھیں سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن انھوں نے ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہماری سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم ٹیم نہیں بھیج سکتے، ہم کولمبو میں ہی کھیلیں گے۔‘
’آخری لمحے پر پورے شیڈول کو تبدیل کرنا بہت مشکل کام ہے اس لیے آئی سی سی کو سکاٹ لینڈ کو لانا پڑا۔ بنگلہ دیش کو سوچنا چاہیے تھا، کھیلنا چاہیے تھا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ کھیلے۔‘
انھوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس میں بے وجہ پڑا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کو اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔‘
’پاکستان کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کیا زیادتی کی، دنیا جانتی ہے اور بنگلہ دیشی بھی جانتے ہیں۔ تب وہ ملک الگ ہوا تھا۔‘
بی سی سی آئی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اب بنگلہ دیش کا ’ہمدرد بن کر انھیں غلط راستے پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ غلط ہے۔‘
پاکستان کو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے سے کیا نقصان ہو گا؟
انڈین اخبار انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ اگر پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلا تو آئی سی سی اس کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔
بی سی سی آئی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’ہندوستان ٹائمز‘ کو بتایا کہ ’اگر پاکستان کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پی سی بی کو آئی سی سی کی جانب ملنے والے سالانہ فنڈز روکے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2023 میں ریونیو کی تقسیم کے فیصلے کے وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کل آمدنی 60 کروڑ ڈالر تھی۔
ڈربن میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سنہ 2024 سے 2027 تک اس آمدنی کا 38٫5 فیصد انڈین کرکٹ بورڈ کو دیا جائے گا۔
انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ریونیو کا سات فیصد جبکہ آسٹریلیا کو چھ فیصد ملے گا۔
پاکستان، چوتھے نمبر پر ہے، جسے اس عرصے کے دوران آئی سی سی کی جانب سے سالانہ تین کروڑ 45 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔
سینئر سپورٹس تجزیہ کار نیرو بھاٹیہ کہتی ہیں کہ ’اگر پاکستان آج بائیکاٹ کرتا ہے تو وہ مستقبل کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ اور ٹیسٹ چیمپئن شپ سے بھی باہر ہو سکتا ہے۔‘
پاکستان کے نہ کھیلنے سے آئی سی سی کو کتنا نقصان ہو گا؟
اگر پاکستان ورلڈ کپ نہیں کھیلتا تو اس کا براہ راست اثر آئی سی سی کی آمدنی پر پڑے گا۔
پاکستان کے سابق کرکٹر باسط علی نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ ’اگر پاکستان ورلڈ کپ نہیں کھیلتا تو براڈ کاسٹر بہت مشکل میں پڑ جائے گا۔ اگر پاکستان آؤٹ ہوتا ہے تو کیا انڈیا جس ٹیم کے ساتھ میچ کھیلا گا، کیا وہ بھی اتنے ہی لوگ دیکھیں گے۔‘
فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس ایںڈ انڈسٹری کے مطابق گذشتہ 20 برسوں کے دوران انڈیا اور پاکستان کے مابین میچز سے ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔
نیرو بھاٹیہ کے بقول بھی پاکستان کے نہ کھیلنے سے آئی سی سی کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ’انڈیا اور پاکستان کے میچ کے ٹکٹ فوری طور پر فروخت ہو جاتے ہیں۔ ٹی وی پر ملنے والے مہنگے اشتہارات اور سپانسر شپ کی مد میں بھی پیسہ کمایا جاتا ہے۔‘
سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے سوشل میڈیا پر ایک شو کے دوران کہا کہ ’پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے پورا ورلڈ کپ ہل جائے گا۔‘
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین میچ کے دوران انڈیا میں اشتہارات کا ایئر ٹائم 4800 امریکی ڈالرز تک فروخت ہوتا ہے۔ ’اس کے علاوہ آئی سی سی نے کئی طرح کے کانٹریکٹس کر رکھے ہیں، جن میں گراونڈز برینڈنگ ہے، ٹائٹل سپانسر شپ ہے۔‘
بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان ٹیم پر ممکنہ پابندی کے سوال پر ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے نہ بھیجنے کا فیصلہ کرے تو پھر یہ پابندی لگ سکتی ہے۔ لیکن اگر پاکستان کی حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے تو پھر آئی سی سی کے لیے پابندی لگانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔‘
’پاکستان کو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے‘
پاکستان کے ممکنہ فیصلے کے حوالے سے کرکٹ بورڈ کے سابق حکام بھی مختلف آرا رکھتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا کی رائے ہے کہ ’پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔‘
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے میں کسی اور بورڈ نے اعتراض نہیں کیا، آئی سی سی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے۔ لہذا پاکستان کو اب اس معاملے کو طول دینے کے بجائے اس پر اب اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے اُصولی بات کی ہے، لیکن پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کا ایک اہم رُکن ہے، انڈیا اور پاکستان کے میچ کے نشریاتی حقوق کا بھی معاملہ ہے۔‘
سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے اُصولی موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ایک بار پھر آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔‘
خالد محمود کے بقول ’پاکستان کو چاہیے کہ وہ آئی سی سی کے دیگر ارکان کو یہ باور کرائے کے انڈیا ہر مرتبہ کھیل میں سیاست لے کر آتا ہے اور یہ سلسلہ رُکنا چاہیے۔‘
سابق چیئرمین پی سی بی کے مطابق ’کبھی انڈیا کے کرکٹر ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو کبھی کسی دوسرے ملک میں جا کر کھیلنے سے انکار کرتے ہیں۔‘
اُن کے بقول ’آئی سی سی کے دیگر رُکن ممالک کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ آخر انڈیا کے ساتھ ہی ہر ملک کا تنازع کیوں ہوتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں کئی ٹیمیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان آنے سے انکار کرتی رہی ہیں، آئی سی سی نے کسی ٹیم کو پاکستان جا کر کھیلنے پر مجبور نہیں کیا تو اب بنگلہ دیش کو کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ انڈیا جا کر کھیلے؟‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر اُصولوں کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر بھی قربان کرنے پڑیں تو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، کیونکہ دُنیا پیسہ نہیں اُصول دیکھتی ہے۔‘