کیا کریں؟: سٹوڈنٹ بلاگ

    • مصنف, ہادیہ خلیل
    • عہدہ, کراچی یونیورسٹی، کراچی

بی بی سی اردو نے پاکستان کی جامعات کے طلباء کی آواز اور ان کی آراء کو سامنے لانے کا اہتمام کیا ہے۔ ’ کیا کریں؟‘ کے عنوان سے یہ ہفتہ وار سلسلہ تیرہ ہفتوں تک جاری رہے گا۔

ہر سنیچر کو ہونے والی بحث سے قبل بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اس ہفتے کی منتخب جامعہ کے طلباء کی جانب سے لکھے گئے بلاگ بھی شائع کیے جائیں گے۔ اس سلسلے کا چوتھا بلاگ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مفت فون کر سکتے ہیں۔ نمبر ہے080022275 جبکہ پاکستان سے باہر کے سامعین اپنی رائے کے اظہار کے لیے ہمیں اس نمبر پر فون کرسکتے ہیں: 0092512611139 (یہ نمبر ٹول فری نہیں ہے)

کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کو جذبے، صلاحیتوں اور آگے بڑھنے کی امنگ سے لبریز ہونے کی وجہ سے معاشرے کا سب سے فعال طبقہ تصور کیا جاتا ہے۔ جس بھی قوم نے ترقی کی اس نے نوجوان طبقے پر گہری توجہ دی۔ کیونکہ نوجوان جس مقصد کے لیے میدان میں نکل آئیں تو آخری دم تک مقصد حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔

تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان میں نوجوانوں کا کردار اس کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 68 فی صد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر پاکستان پھر بھی معاشی بدحالی کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ کیونکہ وہ نوجوان جو ملک و ملت کا معمار ہیں، انہیں خود اپنی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔

ہماری نوجوان نسل کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بے انتہا کنفیوژن کا شکار ہیں۔ اور یہ تضاد اسی وقت شروع ہو جاتا ہے جب ایک بچے کو الف سے انار سکھایا جاتا ہے۔ ذہن میں اقبال کا شاہین بننے کا خواب بنا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ بچہ اپنی زندگی کی منازل طے کر کے آگے پہنچتا ہے، تو اس کے تمام خوابوں کو یہ کہہ کر توڑ دیا جاتا ہے کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔

سکینڈری بورڈ اب تک یہی طے نہیں کر پایا کہ کہ نویں، دسویں کے امتحانات الگ الگ ہوں گے یا ساتھ؟ تو کہیں جامعات ابھی اس کشمکش ہیں کہ بی ایس پروگرام جاری رہے گا یا نہیں؟ یعنی وہ تعلیمی ادارے جن تک 68 فی صد آبادی میں سے محض مٹھی بھر لوگ پہنچ پاتے ہیں، وہ بجائے نوجوان نسل کو مثبت سمت دکھانے کے ان کو مزید تضاد کا شکار کر رہے ہیں۔

اگر نوجوانوں کو یکساں اور بہتر نظامِ تعلیم مہیا کیا جائے تو یہ تضاد کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ معیاری تعلیم کو محض کچھ طبقے تک محدود رکھنا، گورنمنٹ اور پرائیوٹ اداروں میں نصابِ تعلیم مختلف ہونا، یعنی ایک ہی معاشرے میں کئی طبقات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں سے بھی مختلف طبقوں کے طلباء نکل رہے ہیں۔

گورنمنٹ اور پرائیوٹ اداروں کی تفریق نے نوجوانوں میں مزید تضاد پیدا کردیا ہے۔مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نوجوان نسل کو یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتی کہ وہ کتنی بڑی قوت ہیں۔ ان تمام اسباب کے باعث جرائم کی شرح بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ درست سمت نا ملنے کے سبب نوجوان غلط راستوں کا چناؤ کرتے ہیں۔

اس میں اہم کردار نوجوانوں کی مناسب ماہرانہ رائے نہ ہونے کا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں کی جگہ سیاسی تنظیموں نے لے رکھی ہے جو اپنی اپنی ضروریات کے تحت ان نوجوانوں کی صلاحیتوں اور جذبات کو استعمال کرتے ہیں۔ کتنے ہی نوجوان طلباء جامعات میں ان تنظیموں کی خاطر اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ مگر اب بھی انہیں کوئی درست راہ دکھانے والا نہیں ہے۔

ہماری نوجوان نسل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں مستقل مزاجی نہیں ہے۔ دراصل ہماری نوجوان نسل کے پاس آج کے دور کا کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔ سیاست، کھلاڑی، استاد، ڈاکٹر جس سے بھی متاثر ہو تے ہیں وہ شخصیت بدعنوان نظر آتی ہے۔ پاکستانی نوجوان کی مثال اقبال کے اس شعر سے لی جا سکتی ہے کہ:

چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا

شباب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا

پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو نکھارا جائے۔ ہم کھوکھلی جڑوں پر عمارت تعمیر کر رہے ہیں اور اس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ملک کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام طبقات کے لیے یکساں اور بہتر نظامِ تعلیم اپنایا جائے۔ تاکہ عمارت کی بنیادیں مضبوط ہو سکیں۔