قانون شکن قانون ساز !

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
میں پچھلے تیس برس سے تمباکو نوشی کر رہا ہوں۔لیکن یہ خبر پڑھ کر مجھ جیسا تمباکو نوش بھی چونک گیا کہ پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سینٹ میں سابق صدرِ پاکستان و سابق چیرمین سینٹ و ممتاز قانون دان اور قائد حزبِ اختلاف سینیٹر وسیم سجاد نے وزیرِ صحت اعجاز جاکھرانی کی یہ اپیل مسترد کردی کہ ارکانِ پارلیمان، پارلیمنٹ کی لابی میں تمباکو نوشی سے اجتناب کریں کیونکہ ایک تو اس سے سگریٹ نہ پینے والوں پر اثر پڑتا ہے دوسرے اس قانون کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے کہ سرکاری و عوامی مقامات و عمارات میں سگریٹ نوشی منع ہے۔
سینٹر وسیم سجاد نے کہا کہ اس طرح کی تجویز سے ارکانِ پارلیمان کا استحقاق مجروح ہوتا ہے اور یہ کہ پارلیمنٹ کی لابی عوامی جگہ نہیں ہے۔اس دلیل کی قائدِ ایوان نیر حسنین بخاری نے بھی تائید کی اور وزیرِ صحت اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے۔
اب تک کروڑوں لوگوں کی طرح میں بھی اس غلط فہمی میں تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس ایک سرکاری بلڈنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی بلڈنگ بھی ہے کیونکہ یہاں پر کلف لگی گردنوں اور سفید کپڑوں میں ملبوس پراڈو، لینڈ کروزرز اور بی ایم ڈبلیوز سے اترنے والے ارکانِ پارلیمان کہ جن کے ہزاروں روپے کے ڈیلی الاؤنسز اور دیگر اللے تللے عوام کے ٹیکسوں سے پورے ہوتے ہیں، شاید وہ خود کو پارلیمان میں ان مفلوک الحالوں کا نمائندہ سمجھتے ہیں کہ جن کے ووٹوں کی خیرات لے کر وہ اس ایوان میں داخلے کے مستحق قرار پائے۔لیکن عوام کو شکر گزار ہونا چاہیے قائدِ حزبِ اختلاف وسیم سجاد اور قائد ایوان سینٹر نیر بخاری کا کہ جنہوں نے اپنے ووٹروں کی رہی سہی غلط فہمی بھی رفع کردی۔
جہاں تک پارلیمنٹ کی لابی میں سگریٹ نوشی سے روکنے پر معزز ارکان کے استحقاق مجروح ہونے کا معاملہ ہے تو استحقاق مجروح ہونے کی کہانی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار اس بات پر بھی ہمیشہ یکجا پائے گئے ہیں کہ انکی تنخواہیں، ڈیلی الاؤنسز اور دیگر مراعات افراطِ زر کی شرح سے برابر بڑھتی رہیں بھلے انکے ووٹر بے روزگاری یا مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشی کرنے یا اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہوتے رہیں۔
تقریباً نصف ارکانِ پارلیمان یا تو ایوان میں سپیکر اور چیرمین سینٹ یا پارٹی وھپ کی اپیل پر بادلِ نخواستہ ایوان میں تھوڑی دیر کے لیے درشن دیتے ہیں اور ان میں بھی کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے بطور ایم این اے یا سینٹر شاید ہی قومی اہمیت کی کسی بحث یا بل کی منظوری میں اپنا موقف ظاہر کیا ہو۔ایسے حاضر مگر ذہنی طور پر غیر حاضر ارکان میں سے شاید بہت کم سوچتے ہوں گے کہ انکے اس رویے سے انکے ووٹروں کا استحقاق کتنا مجروح ہوتا ہے۔
دھشت گردی کے عروج کے موجودہ زمانے میں بھی اکثر ارکانِ پارلیمان پارلیمنٹ کے گیٹ پر اپنی، اپنی گاڑی یا اپنے دوستوں کی تلاشی کو بھی استحقاق مجروح ہونا سمجھتے ہیں اور انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیںْ۔چنانچہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی کا ذمہ دار عملہ اپنا ہی منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ سے باہر بھی اگر ارکانِ پارلیمان کا ٹریفک چالان ہوجائے تو وہاں بھی استحقاق مجروح ہونے کی دھمکی آمیز دلیل ٹریفک کانسٹیبل کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔
یہ وہ ارکانِ پارلیمان ہے جو اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کے لیے قانون سازی کرتے ہیں لیکن خود قانون کو ناک پر بیٹھی مکھی سے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔انہیں قانون کی حکمرانی اکثر اس وقت یاد آتی ہے جب یہ کسی ٹی وی چینل پر رونق افروز ہوں یا اپنے ناخواندہ، پسماندہ اور واماندہ ووٹروں کو بھاشن دے رہے ہوں۔
کیا ایسے ارکانِ پارلیمان کو درست راستے پر رکھنے کے لیے میڈم سپیکر یا چیرمین سینٹ ’آپریشن راہِ راست‘ کرنا پسند کریں گے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







