چوبیس روپے کی دانشوری!

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آپ کبھی اپنے کسی عزیز یا دوست سے کہیں ’بھائی صاحب ایک لاکھ روپیہ فوری طور پر چاہیں۔ چھ ماہ کے دوران چھ قسطوں میں لوٹا دوں گا‘۔ پہلا سوال ہوگا ’خیریت تو ہے ایسی بھی کیا ایمرجنسی آن پڑی؟‘ یہ سوال کرتے ہوئے دل ہی دل میں آپ کا دوست یہ بھی سوچ رہا ہوگا کہ سال بھر پہلے جو دس ہزار روپے آپ کو دیے تھے وہ یاد دلاؤں کہ نہ دلاؤں۔ چنانچہ قوی امکان ہے کہ آپ کا عزیز دوست یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کرے کہ اگر کہیں اور سے پیسوں کا انتظام ہوجائے تو دیکھ لو۔آج کل ہاتھ ذرا تنگ ہے اور کہیں سے بھی نہ ملے تو پھر کچھ نہ کچھ تو تمہارے لیے کرنا ہی پڑے گا۔
آپ کسی بھی بینکر کے پاس جائیں اور کہیں پچاس لاکھ روپے چاہیں گھر بنانا ہے۔ پہلا سوال ہوگا۔ پلاٹ کے کاغذات کہاں ہیں؟۔ دوسرا سوال ہوگا ماہانہ آمدنی کتنی ہے؟ پھر پوچھا جائےگا بچے کتنے ہیں؟ ان کی عمر کیا ہے؟ زیرِتعلیم کتنے ہیں؟ آپ کے بینک اکاؤنٹس کی تعداد کیا ہے اور کن کن بینکوں میں ہیں؟ آپ کے پاس کریڈٹ کارڈز کون کون سے ہیں؟ پچھلے چھ ماہ کے بینک سٹیٹ مینٹس کہاں ہیں؟ کیا پہلے کسی بینک سے قرضہ تو نہیں لیا؟ کتنے عرصے کے لیے قرضہ چاہیے؟ ضمانتی کون کون ہیں؟ کتنی قسطوں میں اور کتنے برس میں واپسی ہوگی؟ قرضے کی انشورنس کس کمپنی سے کروائیں گے ؟
اگر آپ کا عزیز دوست محض ایک لاکھ روپے کا غیر مشروط قرضہ دینے سے ہچکچا رہا ہو اور پچاس لاکھ دینے سے پہلے بینک آپ کی مالیاتی اوقات کے بارے میں اس قدر چھان بین کررہا ہو اور طرح طرح کی دستاویزات اور ضمانتیں طلب کررہا ہو تو سوچیے جو ملک آپ کو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ دینا چاہتا ہے وہ کیا کیا ضمانتیں طلب نہ کرے گا اور کیوں طلب نہ کرے گا؟
جب کیری لوگر بل پچھلے کئی ماہ سے کانگریس کے زیرِ غور تھا تو ہر آتے جاتے امریکی اہلکار سے بہانے بہانے پوچھا جاتا تھا کہ کتنی دیر اور لگے گی؟ اس دوران کسی ٹی وی اینکر پرسن یا تجزیہ باز کو توفیق نہ ہوئی کہ مباحثے کا دنگل سجانے سے پہلے انٹرنیٹ پر دس ڈالر ادا کرکے اس بل کا مسودہ منگوا کر شق وار پڑھ ہی لیتا۔ اب بل منظور ہوگیا تو اسکی شرائط پر غل مچایا جا رہا ہے اور سب سے زیادہ غوغا پندرہ روپے کا انگریزی اور نو روپے کا اردو اخبار پڑھ کر رائے قائم کرنے والا چوبیس روپے کا دانشور کر رہا ہے۔
چین تو آپ کا یار ہے نا! ذرا اس سے سو ملین ڈالر غیر مشروط طور پر لے کر دکھا دیں۔ سعودی عرب تو برادر ملک ہے نا! ذرا اسی سے تین ماہ سے زائد کے کریڈٹ پر تیل لے کر بتا دیں۔ اگر آپ کو ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر سالانہ کے ساتھ نتھی شرائط اتنی ہی ناگوار گذر رہی ہیں تو انکار کردیں۔ کوئی اور دروازہ کھٹکھٹا لیں، صبر کے گھونٹ پی لیں یا پیٹ پر پتھر ہی باندھ لیں۔
لیکن ڈیڑھ ارب ڈالر دینے والے اور صرف وعدہ، تسلی کرنے والے سب جانتے ہیں کہ اپنا بھاؤ خود لگانا آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ صرف بھاؤ دکھا سکتے ہیں!



