جنگِ کراچی !

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اب سے چھ ماہ پہلے جولائی کے دوسرے منگل کو پاکستانی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کی روک تھام کے لئے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے الٹی میٹم دیا کہ جمعرات کی رات بارہ بجے کے بعد اگر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک بھی واقعہ ہوا تو پھر ان سے برا کوئی نہ ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک ہونے والی ٹارگٹ کلنگز کی عدالتی تحقیقات ہوں گی۔ جو شخص کسی بھی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرے گا اسے پانچ لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ایک کرائسس مینجمنٹ سیل قائم کیا جائے گا جو ٹارگٹ کلنگس سے متعلق انٹیلی جینس نظام کو مربوط کر کے زمہ داروں کو دبوچےگا۔سندھ کی مخلوط حکومت میں شامل پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس لعنت کے خاتمے کے لئے ہرممکن تعاون کریں گے۔
آج ٹھیک چھ ماہ بعد حالت یہ ہے کہ اس عرصے میں دو سو ستر کے لگ بھگ مزید افراد ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہوچکے ہیں۔جن میں متحدہ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ ، عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلز پارٹی، جماعتِ اسلامی اور سنی تحریک کے کارکنوں سے لے کر زمینوں پر ناجائز قبضے کی مزاحمت کرنے والے سماجی کارکن اور جرائم پیشہ گینگسٹرز بھی شامل ہیں۔
ان چھ ماہ کے دوران کسی شخص نے رحمان ملک کو کسی بھی ٹارگٹ کلنگ کی اطلاع دے کر پانچ لاکھ روپے انعام وصول کرنے کی زحمت نہیں کی۔اگر کوئی عدالتی تحقیقات ہوئی بھی ہیں تو ان کا کسی کو نہیں پتہ۔اگر کرائسس مینجمنٹ سیل بنا بھی ہے تو نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ کس کس کے گریبان تک پہنچا ہے۔اگر کوئی ٹارگٹ کلر گرفتار ہوا ہے تو اس کا نام کسی کو نہیں معلوم۔
کوئی بھی شخص جس کی آنکھیں زرا سی بھی کھلی ہوئی ہوں۔اسے کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کی تین موٹی موٹی وجوہات سمجھنے میں نہ تو رحمان ملک کے فوٹو سٹیٹ بیانات کی محتاجی ہے ، نہ کسی سیاسی جماعت کا سہارا چاہیے اور نہ ہی کسی انٹیلی جینس ایجنسی کی فائلوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
پہلی وجہ کراچی نامی کثیرالنسلی سونے کی چڑیا پر سیاسی حاکمیت کی رسہ کشی ہے۔ پونے دو کروڑ آبادی والے اس شہر کے جس علاقے پر جس بھی جماعت یا گروہ کا تسلط ہے وہ اس تسلط کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔کیونکہ اسی تسلط سے زمینی، مالیاتی، ووٹ بینک اور اقتدار میں شراکت کے بے شمار فوائد جڑے ہوئے ہیں۔
دوسری وجہ اربوں روپے کی قیمتی زمین ہے۔جس پر سیاسی، اقتصادی اور نسلی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جمایا جاتا ہے اور اس میں مسلسل اضافے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس جنگ میں جو جس علاقے میں جتنا زور آور ہے، اسی تناسب سے قانون نافذ کرنے والے اور دیگر سرکاری اداروں اور جرائم پیشہ گروہوں کو بھی حصہ داری میں شامل کرتا ہے۔
پولیس مقابلے، نسلی جھگڑے یا گینگ وار دراصل لینڈ مافیا کے بڑے کھیل کی ہی زیلی شکلیں ہیں۔یہ سارا کھیل سیاسی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں اور اسی کھیل سے وہ اثرورسوخ اور سرمایہ ہاتھ آتا ہے جو سیاسی دھاروں کو کنٹرول کرنے کے کام آتا ہے۔پچھلے چھ ماہ میں کراچی میں جتنی ٹارگٹ کلنگس ہوئی ان کا شکار ہونے والوں میں رئیل سٹیٹ کے سترہ کاروباری بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیسری وجہ مذہبی اختلافات کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ ہے۔ جو کبھی زور پکڑ جاتی ہے تو کبھی تھم جاتی ہے۔لیکن کراچی کی موجودہ گریٹ گیم میں اس کا تناسب بہت کم ہے۔
سوال یہ ہے کہ پھر کوئی پکڑا کیوں نہیں جاتا؟ بات یہ ہے کہ جب وارداتی ہی مجرم کا تعاقب کرنے والوں میں شامل ہوکر چور چور کا شور مچانے لگیں تو کون کسے پکڑے گا!







