پی پی پی متحدہ اختلافات کے بعد اجلاس طلب

الطاف حسین(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشناگر ہم اتحاد سے الگ ہوئے تو پیپلزپارٹی حکومت کرنے کے قابل نہیں رہیگی: متحدہ
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کی حکمران اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات تیز ہونے کے بعد اتوار کو کراچی کےگورنر ہاؤس میں دونوں جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس سے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے درمیان ہفتے کے روز ٹیلیفون پر بات چیت بھی ہوئی۔

دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بظاہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی کے بعد ابھر کر سامنے آئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں دونوں جماعتوں کے کارکنان ہلاک ہو رہے ہیں۔

لیاری اور شہر کے دیگرعلاقوں میں پولیس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ نے اپنی جماعت کی رابطہ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپوزیشن میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔

متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماء انیس ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ اتحاد سے الگ ہوئے تو پیپلزپارٹی مرکز اور صوبے میں حکومت کرنے کے قابل نہیں رہیگی۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ لیاری گینگ وار کا سرپرست ہونے کا الزام صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا پر ہے اور وہ مستعفی ہوجائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے اتحادی ہیں ان کے کسان نہیں۔انیس ایڈووکیٹ کے مطابق اگر وہ حکومت سے الگ ہوئے تو پیپلزپارٹی کو دال روٹی کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔

دوسری جانب صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ وہ کسی کے کہنے پر مستعفی نہیں ہونگے۔ان کا کہنا ہے کہ متحدہ اپنے فیصلے تسلیم کروانے کے لیے بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔مرزا کے مطابق ایم کیو ایم کی دھمکیوں میں نہیں آئینگے۔

صوبائی وزیرداخلہ نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو اتحادی بنایا گیا ہے تو اسے پیپلزپارٹی کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ مرزا کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ایم کیوایم نے اپنے طور پر فیصلے کرلیے ہیں اور وہ صرف بہانے تلاش کر رہے ہیں۔

ذوالفقار مرزا کے مطابق لیاری پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے اور رہیگا۔اگر کراچی میں بارہ مئی کے واقعات کے بعد فوج کو طلب نہیں کیا گیا تو اس وقت فوج کو طلب کرنے کی کیاضرورت ہے۔

وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ متحدہ کو اختلافات ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گورنر نے انہیں دو دنوں کے دوران ملاقاتوں میں اختلافات کا تاثر نہیں دیا ہے۔