بینائی سے محروم بالی وڈ اداکار

- مصنف, پرتیکشا گلدیال
- عہدہ, بی بی سی ہندی سروس
آنکھوں کی روشنی سے محروم ایک ہندوستانی اپنی محرومی کے ساتھ بالی وڈ کی ایک فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ بالی وڈ میں پہلی بار کسی کو معذوری کے باوجود اس طرح کا کردار دیا گیا ہے۔
چھتیس سالہ نصیر خان اپنی پہلی فلم ’شیڈو‘ میں کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس فلم میں ان کا کردار ایک گن مین کا ہے جس کی بینائی مکمل طور پر ٹھیک ہے ۔ان کے فلم میں مار دھاڑ والے مختلف مناظر بھی شامل ہیں۔یہ فلم رواں ماہ کے آخر میں ریلیز کی جائے گی۔
نصیر خان کا فلم میں مرکزی کردار بالی وڈ فلم انڈسٹری میں ایک ڈرامائی تبدیلی ہے جہاں اس سے پہلے فلموں میں گلیمر سے بھر پور عورتیں اور مضبوط جسمانی مسل والے مرد کام کر رہے ہیں۔
نصیر خان کا تعلق شمالی ہندوستان کے شہر خان پور سے ہے بچپن سے انہیں کمزور بینائی کا مسئلہ تھا لیکن نوجوانی میں وہ بینائی سے مکمل طور پر محروم ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کسی محرومی کی وجہ سے سب کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا ہے بلکہ اپنی محرومی کے ساتھ بھی ایک بھر پور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
نصیر خان پر فلمائے جانے والے مناظر میں جیٹ طیارے کی پرواز ، خوطہ خوری ، موٹر سائیکل کے کرتب کے علاوہ جلتی ہوئی گاڑی کا خطرناک کرتب اور ایک عمارت کی اڑتسیوں منزل سے چھلانگ لگانا شامل ہے ۔
ان کی فلم میں صرف مار دھاڑ والے مناظر ہی نہیں ہیں بلکہ بالی وڈ کی سپر ہٹ فلموں کی طری فلم میں نصیر خان پرگانے بھی فلمبند کیے گئے ہیں۔نصیر خان کے مطابق فلم میں رقص کرنا ان کے لیے مشکل چیلنج تھا کیونکہ وہ نہیں جانتے ہیں کہ کوریوگرافر ان سے کس طرح کے رقص کی توقع کر رہے ہیں۔ لیکن بعد میں انہوں نے کوریو گرافر کی حرکات کو محسوس کر کے رقص سیکھ لیا۔
نصیر خان فلم شیڈو کے ’ کو پروڈیوسر‘ ہیں اور ان کے ساتھ معاون اداکاروں میں ملینڈ سومن اور ہریشتیا بھٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے میرا خیال تھا کہ اداکاری کسی کے لیے بھی مشکل کام نہیں ہے بلکہ یہ صرف وقت اور پیسے کا کھیل ہے لیکن اب میں نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہر وہ کام کروں جو ایک بینائی والا شخص کر سکتا ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے چمڑے کی تربیت اور برقی آلات کی مرمت کا کورس کر رکھا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ شروع میں وہ فلم میں خطرناک کرتب کرتے ہوئے گھبرائے لیکن وہ انہیں مکمل کرنے کے بارے میں پرعزم رہے کیونکہ’ نا ممکن کا لفظ ان کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔‘
نصیر خان کے مطابق فلم بنانے کا مقصد کمرشل فوائد حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو اس بات کا قائل کرنا ہے کہ وہ اپنے عزائم اور خوابوں کو پورا کریں۔





















