شکست اور ناکامی کو ہرانے والے

- مصنف, ریحانہ بستی وال
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں تھکاوٹ دور کرنے کے لیے جگہ جگہ سیلون یا سپا کھلے ہیں۔ باندرہ میں بھی ایک ایسا ہی سپا ہے جہاں ایکو پریشر اور دیگر طریقوں سے تھکن دور کی جاتی ہے لیکن یہ سپا دوسروں سے مختلف ہے کیونکہ یہاں سب نابینا لڑکیاں اور لڑکے کام کرتے ہیں۔
ممبئی میں اپنی طرز کا یہ ایک انوکھا پہلا سپا ہے جہاں سارے ملازمین نابینا ہیں۔ نیلوفر عبدالرشید حکیم، راجیشوری ، لکشمی، شلپا ، آنند، سنیل، روی، نیلوفر اور راجیشوری کو کچھ دھندلا سا دکھائی دیتا ہے لیکن باقی تمام لوگ مکمل طور پر نابینا ہیں۔ انہیں پارلر انچارج جینی نے اتنی اچھی تربیت دی ہے کہ آپ یہ اندازہ ہی نہیں لگا سکتے کہ یہ نابینا ہیں۔ جب ان کی انگلیاں آپ کے پیروں اور جسم کے دوسرے ایکو پریشر پوائنٹس پر پہنچتی ہیں تو آپ کی ساری تھکان دور ہو جاتی ہے۔
یہ سب اب اتنے ماہر ہو چکے ہیں کہ سارا کام خود کر لیتے ہیں۔سپا میں آنے والے کو آرام دہ کوچ پر سلانے کے بعد سے انہیں تیل کی مالش کرنے اور گرم تولیہ دینے تک انہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
آسٹریلیا سے ممبئی آئی ساٹھ سالہ میرلین ڈیسوزا اپنی بہن کے ساتھ مساج کرانے سپا میں آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بہت اچھا لگ رہا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ شاید بھگوان نے مساج کرنے والوں سے اگر ان کی آنکھیں لی ہیں تو ان کے ہاتھوں میں جادو دے دیا ہے۔
جینی نے بنکاک سے فُٹ ریفلیکسالوجی (پیروں کو آرام دینے کا فن) کا کورس کیا تھا جینی کہتی ہیں کہ جب وہ کورس مکمل کر کے ممبئی آئیں تو نیشنل ایسوسی ایشن فار بلائنڈز (NAB) نے انہیں ان کی سکول کے نابینا افراد کو مساج کی تربیت دینے کی دعوت دی۔
جینی کے مطابق چونکہ طلبا تعلیم یافتہ تھے اس لیے انہیں اناٹومی، فزیالوجی، ایکوپریشر اور زونل تھیراپی کا کورس کرانے میں کچھ دقت نہیں ہوئی۔ جینی کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کا کورس مکمل کرنے کے بعد جب وہ ان بچوں کے لیے مختلف پارلرز میں کام ڈھونڈنے گئیں تو ہر کسی نے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا لیکن کسی نے انہیں اپنے یہاں ملازمت نہیں دی۔ اس لیے انہوں نے ان بچوں کے ساتھ مل کر خود کا سپا کھولنے کا فیصلہ کر لیا اور اب وہ سب دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ خود کفیل ہو چکے ہیں۔

لیکن یہاں تک پہنچنا ان کے لیے کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔ہر کسی کی ایک اپنی کہانی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پیدائشی طور پر نابینا نہیں پیدا ہوا تھا۔ سنیل بی کام کے آخری سال کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے کہ آنکھوں میں خون اترا۔گھر میں ماں اور بھائی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بھائی کسان ہیں۔ سنیل نے آنکھ کا آپریشن کرایا لیکن دونوں آنکھیں اس میں مکمل طور پر ضائع ہو گئی۔ سنیل کو اس وقت احساس ہوا کہ اب زندگی ختم ہو گئی۔ ڈپریشن کی وجہ سے انہوں نے کئی مرتبہ موت کو گلے لگانے کے بارے میں بھی سوچا۔ 'خواب ٹوٹ گئے تھے‘۔ سنیل کے لیے زندگی ٹہر گئی تھی لیکن اب حوصلہ پھر جاگا ہے ' کیا ہوا دفتر کے بجائے سپا میں کام کرنا پڑ رہا ہے لیکن آج اپنے ہاتھوں سے کما تو رہا ہوں۔ میں نے گر کر اٹھنا سیکھ لیا ہے‘۔
نیلوفر کی کہانی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ پیدائش کے بیس دن کے اندر ہی اس کی آنکھوں میں انگلی سے کاجل لگاتے ہوئے ناخن آنکھ میں چبھ گیا اور آنکھ کی بینائی ختم ہو گئی۔ دوسری آنکھ میں روشنی کم ہونے کے بعد لیزر سرجری کرائی لیکن روشنی مزید کم ہو گئی۔ نیلوفر نے گرافک کورس کیا لیکن دھندلا دکھائی دینے کی وجہ سے اسے چھوڑنا پڑا اور پھر وہ بھی نیب جا پہنچیں جہاں مساج کا کورس کیا اور پھر جینی نے انہیں بنکاک سے سیکھے ہنر کی تربیت دی اور آج وہ بھی اسی سپا میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے 'میں وہ ذلت اور لوگوں کی ہنسی کو بھول چکی ہوں۔ اب اب میں خود کفیل ہو چکی ہوں اور سوچتی ہوں کہ کیا ہوا اگر آنکھوں میں روشنی نہیں ہاتھوں میں ہنر ہے جس کی وجہ سے تھکے ہوئے لوگوں کو ہم سکون فراہم کر سکتے ہیں‘۔
آنند کی آنکھیں پانچ سال کی عمر میں چیچک نکلنے کے بعد چلی گئی۔آنند نے اپنی اندھیری دنیا کو روشن کرنے کے لیے بہت محنت کی۔وہ دہلی گئے، پھر ممبئی آئے۔ یہاں ورکنگ مینس ہوسٹل میں انہیں اکثر و بیشتر لوگوں کے طنز برداشت کرنے پڑتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ آنکھ والے کما نہیں سکتے تم اندھے کیا کر سکوگے۔ ان کا کہنا ہے 'آج میں انہیں جواب دے سکتا ہوں کہ میں بھی بغیر سہارے کھڑا ہو سکتا ہوں‘۔
سپا کو کھلے ہوئے ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ سب اپنے اپنے گھروں اور ہوسٹل سے وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔پھر سب مل کر دعا کرتے ہیں۔جینی کہتی ہیں کہ 'میں دعا کرتی ہوں کہ جو بھی آئیں سکون حاصل کر کے جائیں اور دوبارہ آئیں جبکہ میرے بچے دعا کرتے ہیں کہ بہت سارے لوگ آئیں تاکہ ان کے مزید ساتھیوں کو ملازمت مل سکے اور انہیں ان کی تنخواہ‘۔

جینی ان بچوں کے ساتھ بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے صرف ایک تکلیف ہے وہ یہ کہ سپا میں لوگوں کے پیروں کو گرم پانی میں پیر رکھ کر ان کی سکائی نہیں کر سکتی کیونکہ یہ دیکھ نہیں سکتے اور اکثر ان کے پیروں سے ہی پانی گر جاتا ہے۔اس لیے سب کو گرم پانی کا تولیہ دیا جاتا ہے‘۔
ممبئی میں ایک کال سینٹر بھی ہے جہاں سب نابینا کام کرتے ہیں۔لیکن یہ مساج پارلر ممبئی کا پہلا پارلر ہے جہاں سب نابینا کام کر رہے ہیں۔مستقبل میں شاید اس طرح کے پارلر اور کھلیں کیونکہ پہلے تعلیم یافتہ نا بینا افراد اکثر ٹیلی فون بوتھ چلاتے تھے لیکن جب سے موبائیل فون سستے اور عام ہوئے ہیں ٹیلی فون بوتھ کی کمائی ختم ہو چکی ہے۔
ممبئی میں ابھی ایسے ہزارہا نابینا تعلیم یافتہ افراد دفاتر میں کام کے لیے ایک لمبی لڑائی لڑ رہے ہیں۔غیر تعلیم یافتہ سیکڑوں نابینا جو عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اکثر و بیشتر ریلوے پلیٹ فارم پر سامان فروخت کرتے مل جائیں گے لیکن انہیں بھی پولیس کے عتاب کا شکار بننا پڑتا ہے۔ لیکن سپا کے یہ خود کفیل ملازم اب لوگوں کے طعن و تشن اور کھوکھلی ہمدردی کے جال سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ مجبوری سے کفالت تک کے اس سفر نے اب ان کے چہروں پر خوشی بکھیر دی ہے۔



















