’سرحدوں کے بغیر امن‘

کیوبا
،تصویر کا کیپشنکنسٹر انقلاب چوک میں منعقد کیا گیا جس کی علامتی اہمیت ہے

کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں انقلاب کے بعد ’پِیس وداؤٹ بارڈرز‘(بغیر سرحدوں کے امن) کے نام سے سب سے بڑا کنسرٹ منقعد کیا گیا ہے۔

کنسرٹ میں ہسپانوی اور لاطینی امریکہ اور کیوبا سے تعلق رکھنے والے پندرہ مشہور گلوکاروں نے شرکت کی۔ ہوانا کے انقلاب چوک میں لاکھوں لوگوں نے امن کے نام پر ہونے والے کنسرٹ میں سفید رنگ پہن کر شرکت کی۔ کیوبا میں انیس سو انسٹھ میں انقلاب آیا تھا۔

کنسرٹ کے منتظم کولمبیا کے گلوکار خوانیز کو میامی کیوبا کی ریاست کے مخالفین کی طرف سے جان کی دھمکیاں بھی ملی تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار مائئکل واس نےکہا کہ موسیقی کے دیوانے کیوبا کے باسیوں کے لیے یہ انوکھا تجربہ ہے جنہوں نے پہلے کبھی اس طرح کا منظر نہیں دیکھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ کنسرٹ میں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کنسرٹ منعقد کر کے کمیونسٹ نظٌام کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صلح کی طرف بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں صرف کیوبا نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے امن کا پیغام ہے۔

کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کا صدر دفتر بھی انقلاب چوک میں ہے۔ اس کے علاوہ وہاں انقلاب کے معروف رہنما چی گویرا کے سر کا مجسمہ بھی ہے۔