جدید موسیقی کے ذریعے انصاف کی بات

میوزک بینڈ اسکیونجر
،تصویر کا کیپشنمیوزک بینڈ اسکیونجر پہلا بھارتی بینڈ ہے جو جمائیکا کی موسیقی پیش کرتا ہے
    • مصنف, دیویا آریا
    • عہدہ, بی بی سی ، دلی

اگرکسی جیل میں موسیقی کی محفل سجائی جائے اور اس میں انصاف کے لیے آواز بلند کی جائے تو ایسا جان پڑتا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوامی مفاد میں کسی محفل کا انعقاد کیا گیا ہے۔

لیکن گزشتہ دنوں بھارت کی سب سے بڑی جیل تہاڑ میں نظارہ بالکل جدا تھا کیونکہ جدید گیٹار اور ڈرمس کسی قدیم روایت کا منظر پیش کر رہے تھے تو ان دھنوں پر تھرکتے قیدی ایک الگ قسم کا سماں باندھ رہے تھے۔

کلب اور ڈسکو کی جگہ جیل کے قیدیوں کے درمیان بھارت کا ’دی اسکیونجر‘ نامی یہ بینڈ پیار محبت کے بجائے ظلم اور انصاف کی بات کر رہا تھا۔

یہ بینڈ اپنے آپ میں انوکھا تو ہے لیکن اکلوتا نہیں۔ بھارت اور پاکستان میں ایک بار پھر ظلم و ستم کی مخالفت کے لیے آرٹ کو آلہ کار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان دونوں ممالک میں کچھ میوزک بینڈس اب سماجی اور سیاسی موضوعات کو گیتوں میں ڈھالنے لگے ہیں۔

بالی ووڈ اور پاپ میوزک سننے کی عادی عوام کو اب اپنے ہی بینڈز کے ذریعے کچھ مختلف سننے کو مل رہا ہے۔

’دی اسکیونجر‘ بھارت میں جمائیکا کی موسیقی کو اپنا نے والا پہلا بینڈ ہے اور ان کے گیتوں میں بدعنوانی، فرقہ وارانہ تشدد، پولیس انکاؤنٹر جیسے موضوعات شامل ہیں۔

بینڈ کے لیڈ گلوکار ترو ڈالمیا کہتے ہیں ’انگریزوں نے جمائیکا میں بھی اسی طرح حکومت کی ہے جیسے بھارت میں۔ یہ عام لوگوں کی آوا‌‌ز ہے جو میڈیا میں کہیں گم ہو چکی ہے، سچائی سامنے نہیں آ پاتی ہے اس لیے ہم نے اسے موسیقی کے ذریعے لوگوں میں مقبول بنانے کی ٹھان لی ہے۔‘

سفید شرٹ اور کالے رنگ کی چست پینٹ میں یہ بینڈ عام راک بینڈ سے علیحدہ نظر آتا ہے اور ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز کو میوزیکل جنگ کا نام دیا ہے۔

اسی طرح کی پیش قدمی پاکستان میں بھی نظر آتی ہے جو اپنے ملک کے بجائے اپنی احتجاجی موسیقی کو سرحد پار بھی لا رہے ہیں۔

تیمور رحمان

بھارت کی راجدھانی دلی کے پاس گڑگاؤں کے ایک کلب کو پاکستان سے آئے ’لال‘ بینڈ نے لال رنگ میں شرابور کر دیا۔ انھوں نے راک میوزک میں فیض احمد فیض جیسے بڑے شاعروں کے کلام کو ڈھال کر اسے صوفیانہ بنا دیا۔

موسیقی سے دلچسپی رکھنے والی نوپور کوہلی نے لال بینڈ کو سننے کے بعد کہا، ’مجھے راک میوزک بے حد پسند ہے اور انھوں نے دہشتگردی مردآباد جیسے بول ڈال کر انہیں نئے مفاہیم عطا کر دیے ہیں جس سے سننے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔‘

لیکن یہ عجیب بات ہے کہ نہ صرف لال بینڈ کی مخالفت ہوئی ہے بلکہ دہشت گردی جیسے موضوعات پر بنے ان کے ویڈیو البم کی بھی مخالفت ہو‎ئی ہے۔

بینڈ کی شروعات کرنے والے تیمور رحمان بتاتے ہیں کہ انھیں ‏‏غصے بھرے ای میل بھی موصول ہوئے ہیں اور خود ان کے ملک میں کئی میوزک چینلوں نے ان کے گیتوں پر پابندی بھی لگائی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں ان چیزوں سے ڈر نہیں لگتا ہے۔

تیمور رحمان کہتے ہیں، ’ہمارا مقصد ہے آواز اٹھانا اور اگر ہماری آواز پر کوئی بحث شروع ہوتی ہے یا ردعمل ہوتا ہے تو یہ اچھا ہی ہے، برا ہوتا اگر کوئی ہماری موسیقی پر توجہ ہی نہیں دیتا۔‘

انٹرنٹ اور سوشل نیٹورکنگ سائٹوں کی بدولت اس قسم کے بینڈوں کو اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ سرحد پار بھی اپنی پہچان بنانے کا موقع ملا ہے۔