ممبئی حملوں کی فرد جرم کی تفصیلات

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشنممبئی حملوں کی فرد جرم میں پاکستان کے پینتالیس افراد کے نام ہیں
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی کرائم برانچ اب اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ' کرنل سعادت اللہ‘ اور'میجر جنرل صاحب‘ پاکستانی فوج کے عہدیدار ہیں یا پھر لشکر طیبہ کے کارکنان جنہوں نے ممبئی حملوں کے آپریشن کے دوران ان ناموں کا استعمال کیا تھا۔

ممبئی پولیس نے اپنی فرد جرم میں کرنل سعادت اللہ اور میجر جنرل صاحب کو مطلوب ملزمین کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ ممبئی پولیس کو یہ دونوں نام آپریشن کے دوران حملہ آوروں کی اپنے رہنماؤں سے بات چیت کے دوران حاصل ہوئے۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے نو سو پچانوے منٹ دورانیے کی دو سو چوراسی فون کالیں ریکارڈ کی ہیں۔

انٹرنیٹ کی مدد سے کی جانے والی ان ٹیلیفون کالوں کو ٹریس کرنے کے لیے ممبئی پولیس نے امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی سے مدد حاصل کی لیکن اس کے لیے پہلے ممبئی کی عدالت سے اجازت حاصل کی گئی تاکہ اسے قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس پورے آپریشن کے دوران حملہ آور نے ٹیلیفون کالز کے لیے جو ایڈریس استعمال کیا اس کا آئی ڈی kharak_telco@yahoo.com تھا اور اس ای میل ایڈریس کو کم سے کم دس الگ الگ مقامات سے استعمال کیا گیا۔

ممبئی سائبر سیل کے سینئر پولیس انسپکٹر مکند پوار کے مطابق تفتیش سے پتہ چلا کہ دراصل اس ای میل ایڈریس کی لوکیشن آسٹریلیا کی ہے لیکن اسے استعمال کرنے والے شخص کا نام کرنل سعادت اللہ اور ان کا پتہ سپیشل کمیونکیشن آرگنائزیشن ( ایس سی او ) قاسم روڈ راولپنڈی پاکستان ہے۔

کرنل سعادت اللہ نامی شخص کا ای امیل ایڈریس pmit@sco.gov.pk ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہی ای میل خرم شہزاد نامی شخص کا بھی ہے جس کی پولیس کو تلاش ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایس سی او پاکستانی حکومت کی وزارت اطلاعات و نشریات اور ٹیکنالوجی کے تحت کام کرتا ہے۔ فرد جرم میں درج اس تفصیل کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا یہ اس جانب اشارہ ہے کہ پاکستانی فوج کسی طرح اس آپریشن میں شامل ہے؟ ممبئی حملوں کی تفتیش کے سربراہ جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا کا کہنا تھا کہ ابھی وہ کچھ نہیں سکتے اور ابھی تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ'ہو سکتا ہے کہ کسی نے اس آئی پی ایڈریس کو ہیک کر لیا ہو‘۔

ماریا کو یہ بھی شبہ ہے کہ کرنل سعادت اللہ کا نام استعمال کرنے والا شخص لشکر طیبہ کا کوئی اعلی عہدیدار ہو اور اسی نے ای میل ہیک کیا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میجر جنرل صاحب کو بھی تلاش کر رہے ہیں جن سے ہوٹل تاج اور ہوٹل ٹرائڈنٹ کے حملہ آوروں نےگفتگو کی تھی۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے آپریشن کے دوران یرغمال بنائےگئے کچھ افراد کے موبائل فون چھین لیے تھے اور انہی سے کالیں کی تھیں۔ انہیں ان موبائل فونوں پر نمبر 012012531824 سے کال آئی جبکہ حملہ آوروں نے 43720880768,43720880767,43720880764 نمبروں پر فون کیے تھے۔

پولیس کے مطابق ان کالز کا ایک اکاؤنٹ بنایا گیا تھا اور وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول سروس پروائڈر کا پتہ امریکہ کے شہر نیو جرسی کا ہے۔ اس کے لیے کھڑک سنگھ کے اکاؤنٹ سے پیسے دیے گئے۔ ماریا کا کہنا ہے کہ یہ نام فرضی ہے اور تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ رقم جاوید اقبال نامی شخص نے منی گرام اور ویسٹرن یونین منی ٹرانسفر کے ذریعہ دی۔

ممبئی کرائم برانچ نے ہوٹل تاج سے حاصل کیے گئے پانچ جی پی ایس کو تجزیے کے لیے ایف بی آئی لیبارٹری بھیجا ہے جس کی ابھی رپورٹ نہیں آئی ہے۔

اپنی فرد جرم میں ممبئی پولیس نے پینتیس افراد کو مطلوب قرار دیا ہے۔ پولیس کا دعوٰی ہے کہ یہ تمام افراد مبینہ طور پر پاکستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں۔ ان کے نام حفیظ محمد سعید عرف حافظ صاحب ، ذکی الرحمان لکھوی، ابوحمزہ ، ابوالقامہ ، مزمل عرف یوسف، ضرار شاہ ، ابو فہد اللہ ، ابو عبدالرحمان، ابو انس ، ابو بشر ، ابو عمران ، ابو مفتی سعید ، کیم صاحب ، یوسف ، مرشد، عاقب ، ابو عمر سعید ، عثمان ، میجر جنرل صاحب، کھڑک سنگھ ، محمد اشفاق ، جاوید اقبال ، ساجد افتخار، کرنل آر سعادت اللہ ، خرم شاہ آباد، ابو عبید الرحمان ، ابو معاویہ ، ابو انس ، ابو بشیر ، ابو حمزہ پٹھان، ابو ساریہ ، ابو سیف الرحمان ، ابو عمران اور حاکم صاحب ہیں۔

ان پینتیس مطلوب ملزمان کے نام چونکہ فرد جرم میں شامل ہیں اس لیے مقدمہ کے دوران ممبئی پولیس کو انہیں عدالت میں طلب کرنا ہو گا۔ماریا کا کہنا تھا کہ پولیس ان کے خلاف پہلے وارنٹ جاری کرے گی اس کے بعد ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔

فرد جرم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ'ان حملوں کی سازش پاکستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی سرزمین پر دسمبر سن دو ہزار سات سے نومبر دو ہزار آٹھ کے درمیان رچی گئی۔ اس کے لیے دس ملزمان کوگوریلا جنگ کی تربیت دی گئی‘۔

فرد جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لشکر طیبہ کو فہیم انصاری نے ممبئی کے تمام علاقے کا نقشہ بنا کر دیا تھا۔یہ نقشہ ان تک صباح الدین شیخ نے کٹھمنڈو کے راستے پہنچایا تھا۔فہیم اور صباح الدین شیخ صرف دو ہندستانی اس فرد جرم کا حصہ ہیں اور ممبئی پولیس کا دعوی ہے کہ ان کے علاوہ کسی بھی مقامی شخص کا ان حملوں میں ہاتھ نہیں ہے۔