پارلیمنٹ الیکشن : کشمیری کیا کرینگے؟

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
تازہ پس منظر کے حوالے سے کشمیر کے بیشتر مبصرین اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ایک معمول کا عمل کہتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ لوگ ایک بار پھر علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال کو مسترد کردینگے۔ گو کہ سیاسی حلقوں نے اس سلسلے میں سرگرمیاں تیز کردی ہیں لیکن عوامی حلقے پارلیمانی انتخابات کو مخلتف راویوں سے دیکھتے ہیں۔
واضح رہے پچھلے سال گرما میں جب امرناتھ یاترا سے جُڑے زمین تنازعہ نے ہمہ گیر آزادی مہم کی شکل اختیار کرلی تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ آزادی کی اس زوردار مہم کے صرف ساڑھے پانچ ماہ بعد لوگ ہند نواز سیاسی گرپوں کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ لیکن ایسا ہی ہوا۔ لوگوں نے علیحدگی پسند رہنماؤں کی، جنہیں جیلوں یا اپنے ہی گھروں میں نظر بند کیا گیا تھا، بائیکاٹ کال کو اپنے دلائل دے کر مسترد کر دیا۔ پچھلے بارہ سال میں ہوئے اب تک کے سب سے پُرامن الیکشن کے نتیجہ میں امسال پانچ جنوری کو نیشنل کانفرنس قیادت والی جو مخلوط حکومت قائم ہوگئی اس کے نئے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو ’تبدیلی‘ کا نیا عنوان قرار دیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے کسی تلخ ردعمل سے گریز کرتے ہوئے عمرعبداللہ پر زور دیا کہ وہ لوگوں سے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کرینگے تو حالات پھر خراب ہوجائینگے۔

اس طرح کئی مہینوں تک ہڑتالوں اور بغیر اعلان کے کرفیو سے مفلوج ہوچکی زندگی بحال ہوگئی، لیکن علیحدگی پسند گویا دم بخود ہے۔ سید علی گیلانی ناموافق موسم کی وجہ سے کئی ماہ سے نئی دلّی میں مقیم ہیں جبکہ محمد یٰسین ملک شادی کے سلسلے میں پاکستان میں ہیں، جبکہ دو دیگر علیحدگی پسند پروفیسر عبدالغنی بٹ اور سجاد غنی لون پاکستان میں طویل قیام کے بعد سرینگر لوٹتے ہی دوبارہ نئی دلّی روانہ ہوگئے ہیں۔ سجاد غنی لون کے بارے میں معروف بھارتی روزنامہ ٹیلی گراف نے انکشاف کیا تھا کہ وہ اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینگے۔ ٹیلی گراف کی خبر کو یہاں مقبول انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر نے بھی شائع کیا لیکن مسٹرلون نے ان خبروں کی تردید نہیں کی ہے۔ شیخ عبدالعزیز پہلے ہی پچھلے سال ہوئے مظفرآباد مارچ میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک ہوگئے تھے جبکہ شبیر احمد شاہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا ہے۔ سرینگر میں فی الوقت صرف میرواعظ عمر فاروق ہیں جنہوں نے جمعہ کے اجتماع پر خطاب کے دوران یہ واضح کردیا کہ، ’انتخابات یا انتخابات کے بائیکاٹ سے زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔‘
الیکشن سے متعلق بائیکاٹ یا لاتعلقی کا فیصلہ کرنے کے لئے میرواعظ عمر فاروق کی حُریت کانفرنس نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جبکہ دوسری جانب مسٹر گیلانی کی حریت کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقامی دانشوروں کا اجلاس بلائے گی جس میں ان سے آئندہ لائحہ عمل کے بارے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دوسری جانب ہندنواز جماعتوں میں سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے حکمراں اتحاد اور حزب اختلاف پی ڈی پی نے بھی الیکشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
سیاسیات اور تاریخ کے ماہر پروفیسر منظور فاضلی کہتے ہیں :’کشمیریوں کی نفسیات کو سمجھے بغیر لوگوں کے برتاؤ کو سمجھنا مشکل ہے۔ دراصل ہم لوگ کئی سو سال سے بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔پچھلی آٹھ سو سالہ تاریخ کے ہر موڑ پر کشمیریوں کو غاصب قوتوں کے مقابلے زندہ رہنے اور اجتماعی طور پر بچ جانے کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔‘
کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر فاضلی کا خیال ہے کہ کشمیریوں کی اجتماعی خواہش آزادی ضرور ہے، لیکن طویل عرصہ تک ظلم کے سایہ میں رہنے کی وجہ سے آزادی کی اس خواش پر زندہ رہنے کی خواہش غالب آگئی ہے۔ پچھلے سال جب لوگوں نے ووٹ ڈالے تو یہ بقا کی ضرورت کے اس احساس کا نتیجہ تھا۔ اس بار بھی اگر وہ ووٹ ڈالتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے عدم تحفظ کا احساس ابھی بھی ان میں موجود ہے اور وہ زندہ رہنے کے لیے وہی کرینگے جس سے حکومت ان کو شاباشی دے گی۔ ’انہوں نے مسلم حملہ آوروں کے وقت بھی زندہ رہنے کی جنگ لڑی، ہندو مہاراجوں کے خلاف بھی زندہ رہنے کی جنگ لڑی۔ اجتماعی طور ان کے شعور پر آزادی کی خواہش غالب تو ہے لیکن زندہ رہنے کی ضرورت اب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔‘

















