سہسرام شہر میں کشیدگی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے ماحول کوخراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

بہار کے سہسرام شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد نیم فوجی دستوں نے فلیگ مارچ کیا ہے۔ رات گئے اس تشدد میں اقلیتی فرقہ کے کم ازکم آٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے جب کہ اسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کیے کم ازکم آٹھ دکانوں کو لوٹا گیا تھا۔

سہسرام کے پولیس سپرینٹینڈینٹ وکاس ویبھو نے بتایا کہ اب حالات پرسکون ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم نے افواہ پھیلانے اور تشدد بھڑکانے کے جرم میں آج شیوناتھ چودھری نامی ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے جس کا تعلق ہندو نواز تنظیم بجرنگ دل سے ہے۔‘

ایک مقامی شہری منان بشیر نے سہسرام سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ عید میلاد النبی اور ہولی کے تہوار کے حوالے سے شہر میں حالات کشیدہ تھے۔

سہسرام نگر پوجا سمیتی کے کارکن کملیش سنگھ نے بتایا کہ کچھ شر پسند عناصر سیاسی مفاد کے لیے عید میلاد النبی اور ہولی جیسے تہوار کے دن سے ہی تشدد پھیلانے میں پیش پیش تھے لیکن انتظامیہ اور سماجی کارکنوں کی تندہی کے سبب انتظامیہ تشدد پھیلنے سے پہلے ہی روکنے میں کامیاب رہی۔

دریں اثنا مقامی انتظامیہ نے دونوں فرقوں کے سماجی اور سیاسی کارکنوں کی جمعہ کو امن میٹنگ طلب کی جس میں تشدد پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھنے اور ان کے خلاف کارروائی میں پولیس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شیرشاہ سوری کے مقبرے کے لیے دنیا میں مشہور سہسرام شہر فرقہ وارانہ طور پر کافی حساس مانا جاتا ہے۔

ایک مقامی سماجی کارکن مانک سنگھ کا کہنا ہے کہ اپریل میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظرپر امن ماحول کو بگاڑنے کی یہ ایک کوشش تھی۔

پولیس نے شیر شاہ کے مقبرے کے متصل علاقے مدار دروازہ، درگاہ شمس الحق دیوان محلہ کے علاوہ کئی اور علاقوں میں کثیر تعداد میں پولیس فورس ک تعینات کر دیا ہے۔