لالو یادو اور پاسوان کے درمیان معاہدہ

راشٹریہ جنتا دل کے رہنما اور مرکزی وزیر لالو پرساد یادو اور لوک جن شکتی پارٹی کے رہنما رام ولاس پاسوان نے آئندہ عام انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
دلی میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس معاہدے کا اعلان کیا گیا جس کے تحت بہار میں راشٹریہ جنتا دل پچیس سیٹوں پر جبکہ لوک جن شکتی پارٹی بارہ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔ بہار میں لوک سبھا کی کُل چالیس سیٹیں ہیں۔
اس موقع پر لالو پرساد یادو نے یہ بھی بتایا کہ دونوں پارٹیوں نے کانگریس کے لیے تین سیٹیں چھوڑ دی ہیں اور ان سیٹوں پر وہ اپنے امیدوار نہيں کھڑا کریں گے۔
لالو پرساد یادوکا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ سمجھوتا کسی کمزوری یا مجبوری کے سبب نہيں ہوا ہے بلکہ یہ وقت کا مطالبہ ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف یکجہتی سے لڑنے کی ضرورت ہے۔
لالو پرساد یادو نے یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں پارٹیوں کا تیسرے محاذ سے کوئی تعلق نہيں ہے اور وہ قومی ترقی پسند اتحاد یعنی یو پی اے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
لالو پرساد یادو نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے کے لیے پارٹی کے جو رکن تیار نہيں ہیں اور بغاوت کرنا چاہتے ہیں انہيں پارٹی چھوڑنی پڑے گی۔
لیکن نیوز کانفرنس سے ذرا دیر بعد ہی لالو پرساد یادو کے سالے اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما سادھو یادو نے ٹکٹوں کی خرید و فروخت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابات لڑيں گے خواہ پارٹی انہيں ٹکٹ دے یا نہیں۔
ادھر لوک جن شکتی پارٹی کے رہنما اور رجیہ سبھا کے رکن صابر علی نے کہا ہے کہ رام ولاس پاسوان اور لالو پرساد یادو کا اقلیتوں کے تئيں رجہان صرف ایک جھوٹ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں ہی پارٹیاں اقلیتوں کی سیاست کرتے ہیں لیکن دونوں انہیں صحیح سمت نہيں دکھاتے ہیں۔
کانگریس کے لیے دونوں پارٹیوں نے تین سیٹیں چھوڑی ہیں لیکن کانگریس ریاست میں نو سیٹوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔






















