کشمیر:شہریوں کی ہلاکتوں پر احتجاج

کشمیر پروٹیسٹ
،تصویر کا کیپشنفوج اور پولیس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے خلاف عوام میں زبردست غصہ پایا جاتا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی اور جنوبی قصبوں میں جمعہ کو سینکڑوں افراد نے احتجاجی جلوس نکالے اور پچھلے کئی ہفتوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

جمعہ کو بومئی میں سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس موقع پر مقامی شہریوں کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ حکم الرحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم کوئی آزادی نہیں مانگ رہے۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرو۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بچے اور نوجوان نسل محفوظ نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں سے فوج ہٹاؤ۔ اگر راجندر پوسٹ پر فوج نہ ہوتی تو اکیس فروری کو محمد امین اور جاوید احمد مخدوم صاحب کے آستانہ پر حاضری کے بعد سیدھے گھر لوٹتے۔ لیکن انہیں راستے میں ہی فوج نے قتل کردیا۔ اب ہم تنگ آگئے ہیں، فوجی انخلا نہیں ہوگا تو آبادی قصبہ چھوڑ کر چلی جائے گی‘۔

دریں اثنا حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے ان واقعات پر سخت ردعمل میں کہا ہے کہ حکومت فوج کے سامنے بے بس ہے اور اصل سیاسی اختیارات کی مالک صرف فوج ہے۔

واضح رہے تازہ واقعہ میں اٹھارہ مارچ کی شام جنوبی کشمیر کے راجپورہ قصبہ میں نیم فوجی سی آر پی ایف کے جوانوں نے غلام محی الدین ملک نامی شہری کو ایک 'چھاپہ' کے دوران گولی مار ہلاک کردیا ہے۔یہ واقعہ عین اُس وقت پیش آیا جب بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم صوبے کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے ابھی دلّی روانہ ہی ہورہے تھے۔

کشمیر پروٹیسٹ
،تصویر کا کیپشنمحی الدین کی بیوہ لاچار و بے مددگار

سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ مقتول محی الدین جو اپنے پیچھے ایک حاملہ بیوی اور تین کم سن بچے چھوڑ گیا ہے، کوئی شدت پسند نہیں بلکہ ایک عام آدمی تھا۔ اس دوران سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک نے اس سلسلے میں تفتیش کا حکم دیا ہے جس کے بعد چھاپہ کی کاروائی میں شامل ایک افسر سمیت کئی اہلکاروں کو فی الحال معطل کردیا گیا ہے۔

اُدھر شمالی قصبہ سوپور میں اکیس فروری کو دو نوجوان زائرین کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پچھلے ایک ماہ سے صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ سوپور کے بومئی علاقہ میں پیش آیا تھا۔

حکومت کی تفتیشی رپورٹ میں فوجی اہلکاروں کے قتل میں ملوث پائے جانے کے باوجود قصورواروں کو سزا دلوانے میں حکومت کی ناکامی پر یہاں پھر ایک بار لوگوں نے احتجاجی تحریک چھیڑ دی ہے۔ مقامی باشندوں نے اعلان کیا ہے کہ فوج نہ ہٹائی گئی تو وہ اجتماعی ہجرت کرینگے۔ علاقہ کے قریب سات ہزار سکولی طلبہ و طالبات نے بھی سکولوں کا بائیکاٹ کیا ہے مطالبہ کیا کہ سکولوں سے نیم فوجی عملہ کو ہٹایا جائے۔