’میں پاکستانی ہوں‘، اجمل کی تصدیق

اجمل عامر قصاب
،تصویر کا کیپشنقصاب کو جیل میں انتہائی سخت پہرے میں رکھا گیا ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچنے والے حملہ آور اجمل امیر قصاب نے پیر کوعدالت کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستانی ہے اور اس کا تعلق فرید کوٹ سے ہے۔

ممبئی کی مقامی عدالت میں خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی کے سامنے بیان دیتے ہوئے اجمل قصاب نے عدالت سے اپنے لیے وکیل مہیا کرانے کی گزارش کی۔

قصاب اس وقت سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں ہیں اور انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جج کے سوالات کا جواب دیا۔

سماعت کے آغاز پر جج نے قصاب سے ان کا نام پوچھا اور سوال کیا کہ وہ کہاں کے رہنے والے ہیں جس پر انہوں نے اپنا تعلق پاکستان کے قبصے فرید کوٹ سے بتلایا۔

جج نے قصاب سے پوچھا کہ کیا انہیں فرد جرم کی کاپی مل چکی ہے اور کیا وہ کوئی وکیل کرنا چاہتے ہیں جس پر قصاب نے کہا کہ اگر مقدمہ چلتا ہے تو انہیں وکیل کی ضرورت ہے۔ قصاب نے کہا کہ ان کے پاس وکیل کے لیے پیسے نہیں ہیں۔جج نے قصاب سے کہا کہ سرکاری خرچ پر انہیں وکیل مہیا کرایا جا سکتا ہے۔

گفتگو کے بعد قصاب کو دوبارہ جیل کے خصوصی سیل میں لے جایا گیا۔قصاب کو جیل میں انتہائی سخت پہرے میں رکھا گیا ہے۔

ممبئی کے ہی ایک وکیل کے بی این لام نے ممبئی پولیس سے اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے اپیل کی تھی لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب حکومت لیگل ایڈ سیل کے کسی وکیل کو نامزد کرے گی۔اس سے پہلے حکومت نے جس وکیل کو نامزد کیا تھا انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر اس کیس کی پیروی سے انکار کردیا تھا۔

جج تہیلیانی نے آج ایک مرتبہ پھر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کیس سے متعلق کسی طرح کی ویڈیو یا آڈیو ثبوت کی نشریات یا اشاعت پر پابندی کا حکم جاری کیا۔

جج نے اسی کے ساتھ ملزم اجمل قصاب اور دیگر دو ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین کی حراست میں تیس مارچ تک توسیع کر دی ہے۔حالانکہ سرکاری وکیل اجول نکم نے سینچر کے روز عدالت میں اپیل داخل کی تھی جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ چونکہ جیل میں مخصوص عدالت بنانے کا کام مکمل نہیں ہو سکا ہے اس لیے کیس کی سماعت کو تیرہ اپریل تک ملتوی کیا جائے۔

سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کے لیے بم پروف کمرہ تیار کیا جا رہا ہے۔ ممبئی خفیہ ایجنسیوں کے مطابق اجمل قصاب کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اس لیے اس کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے زبردست بندوبست کے علاوہ ہند تبت سرحدی حفاظتی دستے بھی تعینات کیے جائیں گے۔ پولیس جیل کے اطراف رہنے والوں کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ وہ انہیں بھی شناختی کارڈز مہیا کرائے گی اور کیس کی سماعت کے دوران جیل کے اطراف کسی بھی اجنبی شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ممبئی حملوں کی تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ نے پچیس فروری کو عدالت میں ممبئی حملوں کی فرد جرم داخل کر دی تھی جس میں پینتیس پاکستانی شہریوں کو مفرور ملزمین قرار دیا تھا۔ملزمین کے خلاف ملک کے خلف جنگ چھیڑنے ، کسٹم قانون، اسلحہ قانون دھماکہ خیز اشیاء قانون دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور تعزیرات کی مخلتف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسندانہ حملے ہوئے تھے جس میں پولیس کے مطابق ایک سو ساٹھ سے زائد افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔