اجمل کی وکیل کےگھر پر حملہ

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کے واحد ملزم اجمل قصاب کی وکیل انجلی واگھمارے کے گھر پر حملہ کرنے کے الزام میں ممبئی کی ورلی پولیس نے نو افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس حملے کے بعد انجلی نے اجمل کا وکیل بننے سے معذرت کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق رات تقریباً ایک بجے کے قریب دو سو سے ڈھائی سو افراد انجلی کے گھر کے باہر جمع ہوگئے اور انہوں نے ان کے گھر پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ انجلی اجمل قصاب کے کیس کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں۔
ورلی کے سینئر پولیس انسپکٹر بھرت ورلیکر کے مطابق حملہ آوروں کے خلاف فساد برپا کرنے، غیر قانونی اجتماعات جیسے الزامات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
ایڈوکیٹ انجلی اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر کی بیوی ہیں اور وہ پولیس کوارٹرز میں رہتی ہیں۔ رات ایک بجے کے قریب ہجوم ان کے گھر کے باہر جمع ہوا اور انہوں نے انجلی کے خلاف نعرے لگانےشروع کر دیے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شرپسندوں نے انجلی سے اس کیس سے علیحدہ ہونے کے لیے ایک کاغذ پر دستخط بھی لے لیے لیکن ورلی کی پولیس نے اس کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
گزشتہ روز ہی جج ایم ایل تہیلیانی نے عدالت میں لیگل ایڈ پینل کی وکیل انجلی واگھمارے کو اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے نامزد کیا تھا۔اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے جج نے سترہ وکلاء کا ایک پینل بنایا تھاجس میں انجلی کا نام بھی تھا گزشتہ روز ان میں سے سوائے انجلی کے کوئی بھی وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ عدالت نے انجلی کو اجمل کا وکیل مقرر کر دیا تھا۔
گزشتہ روز انجلی نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ انہیں کسی بھی طرح کے پولیس تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں عوامی احتجاج کا ڈر نہیں ہے، انہوں نے کہا تھا کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھیں گے کہ انہوں نے کن حالات میں اجمل کے کیس کی پیروی کرنا منظور کیا تھا۔
انجلی نے اجمل کیس کی پیروی کے لیے اپنے فیصلے کے جواز میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ انہوں نے یہ کیس ایک ہندستانی ہونے کے ناطے لیا ہے اور یہ کہ دنیا کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ کسی بھی ملزم کے ساتھ نا انصافی نہیں کی جانی چاہئے۔ انجلی نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا تھا کہ ’ویٹ اینڈ واچ‘۔
انجلی کے مطابق یہ کیس لینے سے قبل انہوں نے اپنےگھر والوں سے مشورہ کیا تھا اور ان کی رضامندی کے بعد ہی انہوں نے اس کیس کی پیروی کرنا منظور کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں اس سے قبل بھی اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ایڈوکیٹ اشوک سروگی اور کے بی این لام کے گھر پر حملہ ہو چکا ہے۔ وکیل سروگی نے حملے کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔
لیگل ایڈ پینل کے ایک وکیل اشوک موٹا کو سب سے پہلے حکومت نے اجمل کےکیس کی پیروی کے لیے مقرر کیا تھا لیکن انہوں نے یہ کیس اخلاقی بنیادوں پر لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انجلی نے اجمل کے کیس کی پیروی سے انکار کر دیا ہے لیکن اس کی تصدیق اب کیس کی آئندہ سماعت یعنی چھ اپریل کو عدالت میں ہو سکے گی۔






















