چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم ختم

ہندوستان میں عام انتخابات کے چوتھے مرحلے کے لیے انتخابی مہم منگل کی شام ختم ہو گئی ہے۔چوتھے مرحلے کے لیے پولنگ 7 مئی کو ہونی ہے۔
اس مرحلے میں بہار، ہریانہ، جموں وکشمیر، پنجاب، راجستھان، اترپردیش، مغربی بنگال اور دلی سمیت مجوعی طور 85 سیٹوں پر پولنگ ہونی ہے۔
اس مرحلے کی پولنگ سے پہلے انتخابی مہم کے آخری دن بڑی سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی حکومت بنانے کے دعوے کیے اور دوسری پارٹیوں کی خامیاں گنوائیں۔
جیسے جیسے انتخابات ختم ہونے کو ہیں ویسے ویسے مختلف سیاسی پارٹیوں نے انتخابات کے بعد اتحاد کے اشارے دینے شروع کردیئے ہیں۔آج راہل گاندھی نے نہ صرف لیف پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیا بلکہ بہار میں این ڈی اے کی اتحادی جنتا دل یونائیٹیڈ کے سربراہ نتیش کمار کی تعریفوں کے بھی پل باندھے۔
راہل گاندھی کے بیان پر مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتارام یچوری کا کہنا تھا کہ تین مرحلوں کی پولنگ کے بعد کانگریس کا اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ اکیلے سرکار نہیں بنا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تیسرے مرحلے کے بعد جب کانگریس کے اس قسم کے بیانات آنے لگے کہ لیفٹ کے ساتھ وہ اتحاد کے لیے تیار ہیں یہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے آپ سرکار نہیں بنا پائیں گے‘۔
وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ارن جیٹلی نے کہا کہ راہل گاندھی کے بیانات میں سیاسی پختگی نہیں ہے اور انتخابات کے نتائج کے بعد یہ صاف ہوجائے گا کہ کانگریس ہی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
نتییش کمار نے راہل کی تعریف قبول کی لیکن اتحاد کی گنجائش کو مسترد کردیا۔ نتیش کمار نے بھلے ہی اس امکان کو مسترد کردیا ہو لیکن کوئی تلخ بیان نہیں دیا۔ جس سے ایک بات ظاہر ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے متبادل کھلے رکھ رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس سے قبل منگل کی صبح دلی میں ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے ایک بار پھر کہا کہ اگر کانگریس حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آتی ہے تو وزير اعظم کے عہدے کے لیے منموہن سنگھ ہی امیدوار ہوں گے۔
راہول کے مطابق حزب اختلاف کا محاذ این ڈی اے پوری طرح ختم ہو چکا ہے اور ان کے مطابق اس محاذ کو ایک بار پھر اپوزیشن ميں بیٹھنا پڑے گا۔
بائيں محاذ کی حمایت حاصل کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بایاں محاذ ابھی بھی پرانے خیالات کا حامل ہے اور انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا بدل چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیں محاذ کے ساتھ کافی اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ نظریاتی یکسانیت ہے۔
بائيں محاذ کی جانب سے سرکار بنانے کے لیے حمایت کے سلسلے میں راہول کا کہنا تھا ’اگر بایاں محاذ سب سے بڑے محاذ کے طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے تو ميں خود کہوں گا کہ ان کو حمایت فراہم کریں۔‘
بھارتیہ جنتا پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'بی جے پی اور کانگریس میں کوئی یکسانیت نہيں کیونکہ بی جے پی نے گجرات کروایا، وہ پارٹی خواتین پر ظلم کرتی ہے اور عیسائیوں پر حملے کرتی ہے۔





















