عدالت: قصاب پر فرد جرم عائد

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے حملوں کے ملزم اجمل امیر قصاب سمیت دیگر ملزمان کےخلاف باقاعدہ فرد جرم عائد کردیئے ہیں۔
خصوصی عدالت نے ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے ، سازش تیار کرنے ، ہندستان کا تختہ پلٹنے ، دہشت گردانہ کارروائی ، قتل اور اقدام قتل جیسے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کیے ہیں۔
خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچے مشتبہ ملزم محمد اجمل امیر قصاب پر تعزیرات ہند، اور دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر چھیاسی الزامات عائد کیے۔
اس سے قبل فہیم انصاری کے وکیل شاہد اعظمی نے عدالت میں بحث کی تھی کہ ان کے موکل کے خلاف ملک کے خلاف جنگ چیڑنے جیسے الزام عائد نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ پولیس فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کی سازش کشمیر میں رچی گئی ہے اور کشمیر میں تعزیرات ہند کی دفعات نافذ نہیں ہیں۔
لیکن عدالت نے ایڈوکیٹ کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا اور تینوں ملزمان اور اس کیس کے دیگر پینتیس ملزمین پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کیا۔
عدالت میں نو مبینہ ہلاک ہوئے حملہ آوروں کے علاوہ ان پینتیس مبینہ لشکر طیبہ کے اراکین کے نام بھی پڑھے گئے جن کے بارے میں ممبئی کی تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی سازش میں ملوث ہیں۔ان میں لشکر طیبہ کے مبینہ اراکین ضرار شاہ ، ذکی الرحمن لکھوی ، یوسف مزمل ، حافظ سعید، حکیم صاحب، کرنل آر سعادت اللہ ، اور ابو حمزہ کےنام شامل ہیں۔
جج نے آج عدالت میں موجود ممبئی حملوں کے تینوں ملزمان محمد اجمل امیر قصاب، فہیم انصاری اور صباح الدین کو ان پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے۔
جج نے یکے بعد دیگرے تینوں سے سوال کیا کہ کیا انہیں یہ الزامات قبول ہیں۔اس پر تینوں نے ان الزامات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اجمل قصاب نے کہا ' مجھے یہ الزامات قبول نہیں ہیں'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جج نے قصاب کو بتایا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل نے مشترکہ ارادے سے سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن، کاما ہسپتال ، میٹر سنیما اور چوپاٹی پر کل ملا کر بہتر لوگوں کا خون کیا اور ایک سو بتیس افراد کو زخمی کیا۔
جج نے قصاب سے کہا کہ زخمی سات افراد کے جسم سے جو گولیاں نکلی ہیں وہ قصاب کے پاس پائے گئے اے کے 47 رائفل سے نکلی تھی کیونکہ ان دونوں کی رپورٹ ایک ہی ہے۔قصاب پر مذکورہ بالا الزامات کے علاوہ کسٹم قوانین ، پاسپورٹ قوانین، دھماکہ خیز اشیاء، اسلحہ قانون ، اور ریلوے قوانین کے تحت بھی کیس درج ہوئے ہیں۔
عدالت میں آج ایک بار پھر جج کے پوچھنے پر اجمل نے بتایا کہ وہ پاکستان کی ریاست پنجاب کے ضلع اوکاڑا میں فریدکوٹ کا رہنے والا ہے ۔عمر کے بارے میں اس نے کہا کہ 'اگر آپ میری بات کا یقین کر لیتے تو آج میں یہاں نہیں ہوتا۔'



















