اجمل اقبالی بیان سے منحرف

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشناجمل امیر قصاب نے اپنے اقبالیہ بیان سے انکار کردیا ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی حملوں کے اہم ملزم اجمل امیر قصاب اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہوگئے ہیں۔

جمعہ کو ممبئی حملوں کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے موقع پر ممبئی حملوں کے زندہ بچنے والے واحد مشتبہ ملزم اجمل امیر قصاب نے عدالت میں اپیل داخل کی کہ وہ اپنے مبینہ اقبالیہ بیان سے انحراف کر رہے ہیں کیونکہ وہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا تھا۔

اجمل کے وکیل عباس کاظمی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کا کہنا ہے کہ جو کچھ اقبالیہ بیان میں لکھا گیا ہے وہ ان کا اپنا بیان نہیں ہے اور پولیس حراست میں انہیں جسمانی اذیت دی گئی تھی۔ ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کے موکل کے مبینہ اقبالیہ بیان کی کاپی انہیں دی گئی جسے انہوں نے پڑھ کر سنایا۔ بیان سننے کے بعد اجمل نے کہا کہ اس بیان پر ان کے دستخط جبری طور پر لیے گئے تھے۔

عباس کاظمی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کل تک اجمل کے پاس عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے کوئی ذریعہ نہیں تھا اب وہ ان کے ذریعہ عدالت تک اپنی بات پہنچا رہے ہیں۔

سماعت کے موقع پر ممبئی حملہ کیس کے سرکاری وکیل اجول نکم نے کہا کہ چھبیس نومبر کے ممبئی حملے صرف ممبئی کی اقتصادیات کو کمزور کرنے یا عوام میں خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ کشمیر پر قبضہ کرنے کے مقصد سے کیے گئے تھے۔ خصوصی جج ایل ایم تہیلیانی کے سامنے نکم نے اپنا کیس پیش کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ اس بات کے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔

عباس کاظم
،تصویر کا کیپشناجمل کے دفاع کے لیے عباس ناظر کو نیا وکیل مقرر کیا گیا ہے

نکم نے اس سلسلہ میں ملزم اجمل امیر قصاب کا مبینہ اقبالیہ بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ اجمل کے مبینہ بیان میں اس حملے کی سازش رچنے، دس مجاہدین کو اسلحہ چلانے اور سات دن تک بھوکے پیٹ جسم پر وزنی بیگ لے کر پہاڑوں پر چڑھنے کی تربیت دینے کی باتیں ہیں اور یہ بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

نکم نے یہ بھی دعوی کیا کہ جس طرح کی تربیت ان ملزمان کو دی گئی تھی وہ کوئی دہشت گرد تنظیم کے بجائے ملٹری اور انٹیلی جنس تربیت کا حصہ لگتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کرنل آر سعادت اللہ کا ای میل آئی ڈی استعمال کیا گیا ہے اور وہ اس کیس میں ممبئی پولیس کو مطلوب ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہ ساری سازش پاکستان میں تیار کی گئی۔ اور یہ ’سٹریٹجک ٹیرر کلچر‘ کا حصہ تھا۔

نکم سنیچر کو عدالت میں اجمل پر فرد جرم عائد کریں گے۔ اجمل کے خلاف ماہی گیر بوٹ الکبیر کے جہاز راں امر سنگھ سولنکی کے قتل، ولے پارلے میں ٹیکسی بم دھماکے، سی ایس ٹی فائرنگ، کاما ہسپتال فائرنگ، ہسپتال کے باہر پولیس افسران پر فائرنگ ، سکوڈا کار کی چوری اور پھرگرگام میں پولیس مقابلے جیسے مجموعی طور پر بارہ کیس درج ہیں۔