تھکی ہوئی سیاست کا اختتام

اگر آڈوانی وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ پرانی طرز کی سیاست کے آخر رہنما ہونگیں۔
،تصویر کا کیپشناگر آڈوانی وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ پرانی طرز کی سیاست کے آخر رہنما ہونگیں۔
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہفتے کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی تقریبا ڈھائی مہینے سے جاری اتنخابی عمل تکمیل کے مراحل میں داخل ہوجائے گا۔ اور ساتھ ہی ہندوستان کی برسوں کی روایتی سیاست کا باب بھی یہیں پر اختتام پزیر ہوگا۔

پارلیمانی انتخابات ایک ایسے پس منظر میں لڑے گئے جب ہندوستان بھی کچھ حد تک عالمی کسادبازاری کی گرفت میں آیا۔ روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور پانچ برس سے جاری تیز رفتار ترقی کا عمل اچانک ڈگمگاتا ہوا محسوس ہوا۔ اخبارات اور ٹی وی میں روزانہ محمد اجمل امیر قصاب کی تصویرں ممبئی حملے اور دہشت گردی کی یاد دلاتی رہیں۔

اس کے باوجود نہ بہتر حکومت، نہ مہنگائی اور نہ ہی دہشت گردی کا سوال ملک گیر سطح پر انتخابی موضوع بن سکا ۔ یہ صورتحال ہندوستان کے تھکے ہوئے سیاسی رہنماؤں اور کی تھکی ہوئی سیاست کا عکاس ہے۔

ابھی دو عشرے بھی نہیں ہوئے جب ملک میں دو بڑی قومی جماعتوں کا بول بولا ہوا کرتا تھا اور بالخصوص کانگریس ہمیشہ اپنے زور پر حکومت تشکیل کیا کرتی تھی لیکن 543 رکنی لوک سبھا میں کانگریس اور بی جے پی دونوں جماعتیں 150 کے عدد تک پہنچ پائیں گی یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے۔

ملک کی سیاست میں علاقائی جماعتوں کا بڑھتا ہوا کردار ، قومی جماعتوں سے مایوس اور ہندوستان کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کا ثبوت ہے۔

پندرہویں لوک سبھاکے انتخابی عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی ہندوستان کی روایتی سیاست کا باب ختم ہوجائے گا۔ منموہن سنگھ یا ایل کے اڈوانی اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ اس پرانی ڈگر کے آخری رہنما ہونگیں۔

ہندوستان اس وقت اقتصادی تغیر کے دور میں ہے۔ ملک کے عوام بالخصوص نوجوان نسل کی جس کی تعداد نصف سے بھی زیادہ ہے، جن کی سوچ و سمجھ میں زبردست تبدیلیاں آئی ہیں وہ بدلتی ہوئی دنیا میں پہلے کی نسلوں کے مقابلے زیادہ بیدار ہیں۔ وہ اپن تمناؤں اور خواہشات کی تکمیل کے لیے زیادہ جوش میں ہیں۔ وہ ملک کی روایتی طرز کی سیاست میں ایک بہتر مثبت اور اعلی تبدیلی کی خواہ ہیں۔ وہ ایک ایسا سیاسی نظام چاہتے ہیں جس میں وہ تمناؤں کی تکمیل دیکھ سکے۔

انتخابی مہم کے دوران گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا اکثر ذکر آیا، بہت سے لوگ انہیں وزیر اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مودی کی مقبولیت انکے سخت گیر ہندوتو کے نظریات کے سبب نہیں بلکہ گجرات کی زبردست ترقی میں انکے کردار اور انکے طریقے کار طرز عمل کے سبب بڑھی۔ ان کی ہندؤئیت کا نظریہ تو در اصل اسی تھکی ہوئی سیاست کا حصہ ہے جس سے ملک اب نکلنے کی کوشش کررہا ہے اور شاید نریندر مودی بھی۔

یہ انتخاب پرانی نسلوں اور پرانی طرز کی سیاست کا آخری انتخاب تھا۔ پرانے رہنما اپنا کردار ادا کرچکے ہیں۔ آئندہ انتخاب سیاست کی نئی نسلوں کا انتخاب ہوگا۔ ہندوستان کی عوام بھی ایک اوباما کی تلاش میں ہیں۔