نتائج میں کانگریس کی لہر نظر آئی

ووٹوں کی گنتی جاری ہے
،تصویر کا کیپشنووٹوں کی گنتی جاری ہے
    • مصنف, یوگیندر یادو
    • عہدہ, سیاسی مبصر

ہندوستان کی پندرہویں لوک سبھا کے لیے ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا کام جاری ہے اور حتمی رجحانات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکمراں ترقی پسند محاذ واضح برتری حاصل کر رہا ہے۔

دوپہر دو بجے

کانگریس کی جیت کی وجہ

وجوہات کی گہرائی میں جانا ابھی شاید ممکن نہيں ہے لیکن یہ صاف ہے کہ نتائج میں چھوٹی ریاستوں کے علاوہ ہلکی سی قومی لہر کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر بہار اور جھارکھنڈ کو چھوڑ ديں تو تقریباً سبھی ریاستوں میں کانگریس کو جتنی سیٹیں ملنے کی امید تھی اس سے زيادہ ہی ملی ہیں۔ چاہے وہ گجرات ہو یا پھر مدھیہ پردیش۔

موجودہ سرکار کے حق میں پورے ملک میں ایک ہلکی سی قومی لہر نظر آئی یا اسے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف ’اینٹی انکمبنسی‘ یا اقتدار میں ہونے کا منفی اثر نہیں پڑا۔

منموہن سنگھ کی ایک صاف ستھرے سیاست دان کے طور پر شہرت نے فائدہ ضرور پہنچایا ہے۔ وہيں سونیا گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم کا عہدہ قبول نہ کرنے کے بعد جو نیک نامی ان کو ملی اس نے بھی پارٹی کو فائدہ پہنچایا۔ لیکن اسے منموہن سنگھ کا جادو یا سونیا گاندھی کا جادو کہنا ابھی جلد بازی ہو گي۔

مغربی بنگال کے حیران کرنے والے نتائج

مغربی بنگال میں تبدیلی بہت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس ریاست میں عوامی سطح پر ایک خاص نوعیت کی بے چینی اور عدم اطمینان پایا جاتا تھا اور اس سے پہلے عوام کو اس کے اظہار کا موقع نہیں مل سکا۔ اس بے چینی کی جھلک کبھی بھی انتخابی نتائج میں دکھائی نہیں دی۔ اس مرتبہ عوام کے سامنے ایک متبادل اتحاد کی انتخابی میدان میں موجودگی نے اسے ممکن بنا دیا۔ عوام نے ارباب اقتدار کو جھنجھوڑا ہے اور اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

علاقائی پارٹیوں کی ہار؟

میں اسے ملک گیر علاقائی پارٹیوں کے خلاف مینڈیٹ نہیں مانتا ، نتیش کمار کو کامیابی ملی ہے ڈی ایم بھی کامیاب ہوئی ہے۔ اسے بہتر سرکار کے لیے عوام کے مینڈیٹ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جہاں جہاں سرکار نے کام کیا عوام نے اسے انعام دیا اور جن ریاستوں میں حکومت نے صحیح طریقے سے کام نہيں کیا ہے اسے کسی نہ کسی طرح اس کی قیمت ادا کرنا پڑئی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہار کی وجہ

بھارتیہ جنتا پارٹی نے شروع سے ہی غلط اندازہ لگایا تھا۔ ابھی بھی یہ پارٹی ملک کے کچھ علاقوں میں پھیلی ہوئی پارٹی ہے اگر ان علاقوں میں بہت زیادہ ووٹ لے سکيں تب تو وہ کہیں جا کر کانگریس کے نزدیک پہنچے گی۔ بھاریتہ جنتا پارٹی سے دو طرح کی غلطیاں ہوئیں ہیں۔

ایک تو ان کا اتحاد کافی چھوٹا پڑ گیا تھا۔ ان کے حمایتی انہيں پارٹی کی قدامت پسندانہ نظریات کے سبب انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے علاوہ پارٹی اپنی انتخابی مہم میں یہ واضح نہيں کر سکی کہ وہ کن ایشوز یا مسائل پر انتخابات لڑنا چاہتی ہے۔ وہ سرکار کو گھیرنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہيں بنا سکی اور یہ کہیں کہ کانگریس نے انہیں کوئی موقع نہیں دیا۔

صبح دس بجے

کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے برتری حاصل کی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اسے پوری ریاست میں سبقت حاصل ہو۔ کرناٹک سے اب تک کے رجحانات سے ایسا اندازہ ہو رہا ہے کہ نتائج پچھلی مرتبہ جیسے ہی ہو سکتے ہیں۔

الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کا استعمال شروع ہونے کے بعد ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ ابتدائی رجحانات اور حتمی نتائج میں کافی فرق ہو سکتا ہے۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ کانگریس کی قیادت والے ترقی پسند محاذ کو ان انتخابات میں صاف برتری حاصل ہے۔

بھارتیہ حنتا پارٹی کی قیادت میں قائم قومی جمہوری محاذ کو شکست ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

سرکار بنانے کے کھیل میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یوپی میں اس کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے۔