'انصاف پسند نہیں الیکشن کمیشن': مایاوتی

مایاوتی
،تصویر کا کیپشنمایاوتی کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں امن وقانون کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو اس کے لیے الیکشن کمیشن ذمہ دار ہوگا۔

اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے حریف پارٹیوں کی باتوں ميں آکر ریاست کے پرنسپل سیکریٹری کا تبادلہ کیا ہے اور یہ ایک انصاف پسند فیصلہ نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن نے منگل کو اترپردیش کے پرنسپل سیکریٹری فتح بہادر سنگھ کو فورا ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

.الیکشن کمیشن کے اس فیصلے سے ناراض ہوکر مایاوتی نے کہا ہے کہ ریاست میں پہلے مرحلے کی پولنگ قریب ہے اور اگر اس دوران ریاست میں امن و قانون کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو اس کے لیے الیکشن کمیشن ذمہ دار ہوگا۔

انکا کہنا تھا " الیکشن کمیشن کے اس قدم کے بعد اگر ریاست میں امن و قانون کی صورتحال بگڑتی ہے، کسی طرح کا شدت پسند حملہ ہوتا ہے، یا فرقہ وارانہ تشدد ہوتا ہے، یا پھر کسی پارٹی کے کسی لیڈر کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس لیے ریاستی حکومت نہیں بلکہ الیکشن کمیشن ذمہ دار ہوگا'۔

انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو کسی اہلکار کے کام کرنے کے طریقے سے کوئی شکایت تھی تو کمیشن کو اس کے بارے میں پہلے ریاستی سرکار کو بتانا چاہیے تھا۔ ریاستی حکومت اس سمت میں اقدامات کرتی۔

بدھ کو مامیاوتی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ فتح بہادر کو وزیر اعلی کا پرنسپل سکریٹری مقرر کر رہی ہیں۔

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ریاست کے پرنسپل سیکریٹری کے خلاف شکایت درج کی تھی جس کے بعد کمیشن نے انکا تبادلہ کردیا تاکہ ریاست میں آزاد اور شفاف انتخابات ہوسکیں۔