دلی میں انتخابی سرگرمیاں تیز

مایاوتی نے کہا ہے کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں نے ملک کے غریبوں اور نچلے طبقوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمایاوتی نے کہا ہے کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں نے ملک کے غریبوں اور نچلے طبقوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے۔
    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

عام اتنخابات میں ایک طرف جہاں پورے ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں وہیں دلی میں 7 مئی کی پولنگ سے پہلے بڑی سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں نے انتخابی مہم تیز کردی ہے۔

اتوار کو دلی میں دو بڑی ریلیاں ہوئی جس میں ملک کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ان کی موجودہ حکومت اور کانگریس پارٹی نے ملک کی ترقی کو اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ وہیں اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی نے کہا کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی غریب اور نچلے طبقے کو نذر انداز کرنے والی پارٹیاں ہیں۔

<link type="page"><caption> بھارت کی مستحکم جمہوریت کا ایک انداز</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/05/090503_mayai_rally_asad_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں ملک میں شدت پسند کارروائیاں ہوئی ہیں جن پر وہ قابو پانے میں نا کام رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو پے اے حکومت نے جس طرح سے ممبئی جیسے شدت پسند حملے کے بعد کارروائی کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ملک کی سکیورٹی کا معاملہ ہو یا ترقی، عوام کے سامنے کانگریس پارٹی اور انکے اتحاد والی حکومت واحد متبادل ہے۔

دوسری طرف دلی کے رام لیلا میدان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اترپردیش کی وزیر اعلی اور بہوجن پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ان کی پارٹی سماج کے سب ہی طبقوں کو سامنے رکھ کر ملک کو ترقی کی راہ پر لانا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد سے ملک پر کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کا اقتدار ہے لیکن آزادی کے ساٹھ برس بعد بھی غریب اور نچلے طبقے کے لوگ اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

مایاوتی نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی مرکز میں اقتدار میں آتی ہے تو سب ہی کو روزگار مہیا کیا جائے گا اور ملک سے شدت پسندی اور نکسلی تشدد کا پوری طرح خاتمہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی مخالف پارٹیاں لوگوں کو بہوجن سماج پارٹی کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن بہوجن سماج پارٹی ایک ایسی پارٹی ہے جو اعلی ذات اور نچلی ذاتوں کو ایک ساتھ لیکر ملک کی ترقی کا تصور کرتی ہے۔

مایاوتی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اترپردیش میں اپنے دور اقتدار کے دوران یہ ثابت کردیا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی ہی ایک ایسی پارٹی ہے جو عوام کی بہتری اور ترقی کے بارے میں سوچتی ہے لیکن اب وہ مرکز میں آکر یہ بتانا چاہتی ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے جو کام کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہیں کیا وہ کام وہ کرسکتی ہے۔

دلی میں 7 مئی کو سات پارلیمانی نشستوں کے لیے پولنگ ہوگی جس میں بہوجن سماج پارٹی کے سات امیدوار میدان میں ہیں اور ریاست میں وہ بغیر کسی اتحاد کے انتخابی میدان میں اتری ہے۔

مایاوتی کی ریلی کے اس نعرے سے کہ ’یو پی ہوئی ہماری ہے، اب دلی کی باری ہے‘ ایک بات صاف ہے کہ مایاوتی مرکز میں اپنی حکومت بنانے اور اپنے آپ کو وزيراعظم کی کرسی پر دیکھنے کے خواب کو یقینی بنانے کے لیے پر بھر پور کوشش کررہی ہیں۔