نئی وزراء کاؤنسل اور علاقائی نماندگی

منموہن سنگھ
،تصویر کا کیپشننئی حکومت میں (وزیر اعظم سمیت) اناسی وزراء ہیں جن میں سے چونتیس کو کابینہ کا درجہ دیا گیا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی وزارتی کونسل کو حتمی شکل تو دے دی ہے لیکن وزراء کی فہرست پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ کئی سرکردہ راہنماؤں اور ریاستوں کے دعوے مخلوط سیاست کے تقاضوں کی نذر ہوگئے ہیں۔

نئی حکومت میں (وزیر اعظم سمیت) اناسی وزراء ہیں جن میں سے چونتیس کو کابینہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ اترپردیش سے لوک سبھا کے اسی ارکان منتخب ہوتے ہیں لیکن ریاست کو کابینہ میں نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ دو دہائیوں کے بعد ریاست میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے بعد کانگریس نے وہاں اکیس سیٹیں جیتیں، لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے حصے میں صرف پانچ وزراء مملکت ہی آئے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف جموں و کمشیر میں سیٹوں کی کل تعداد ہی چھ ہے لیکن وہاں سے کانگریس کے غلام نبی آزاد اور اس کی اتحادی جماعت نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ کو کابینہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

(وزارتی کونسل میں بنیادی طور پر تین درجوں کے وزیر ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے کابینہ کے درجے کے وزیر، جو بڑے محکموں کو سنبھالتے ہیں اور جنہیں کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کا حق حاصل ہوتا ہے، پھر وزیر مملکت (انڈیپینڈنٹ چارج) یعنی دوسرے درجے کے وزیر جو کابینہ میں تو شامل نہیں ہوتے لیکن اپنے اپنے محکموں کی آزادانہ طور پر ذمہ داری سنبھالتے ہیں، اور اس کے بعد وہ وزیر مملکت جو کابینہ میں شامل وزراء کے معاون کے طور پر کام کرتے ہیں)

سابقہ حکومت میں مسلمان وزراء کی تعداد چھ تھی جو اب پانچ رہ گئی ہے۔ فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد کے علاوہ اترپردیش سے کانگریس کے سلمان خورشید، مغربی بنگال سے ترنمول کانگریس کے سلطان احمد اور کیرالہ سے انڈین یونین مسلم لیگ کے ای احمد وزراء مملکت کی حیثییت سے حکومت میں شامل کیے گئے ہیں۔

سلمان خورشید کا نام وزیر خارجہ کے طور پر لیا جارہا تھا اور کانگریس کے اندر ایک حلقے کا خیال تھا کہ اگر سلمان خورشید کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو ملک بھر میں مسلمانوں کو(جو اس الیکشن میں بڑی تعداد میں کانگریس کی طرف لوٹے ہیں) ایک مثبت پیغام جائے گا۔

لوک سبھا کے لیے تیس مسلمان منتخب ہوئے ہیں جن میں سےستائیس کا تعلق متحدہ ترقی پسند محاذ سے ہے۔

بہار سے کانگریس کے واحد مسلمان رکن پارلیمان مولانا اسرار الحق کو بھی وزارتی کونسل میں جگہ نہیں مل سکی۔

اس کے برعکس مہاراشٹر کو، جہاں کانگریس اور اس کی اتحادی جماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے ملکر پچیس سیٹیں جیتی تھیں، نو وزارتی عہدے ملے ہیں جن میں سے پانچ کو کابینہ کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست میں جلدی ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

کرناٹک میں اس مرتبہ کانگریس نے صرف چھ سیٹیں جیتی ہیں ( پہلے نو تھیں) لیکن ریاست کو چار وزارتی عہدے دیے گئے ہیں جن میں تین کابینہ درجے کے ہیں۔ لیکن ہریانہ میں کانگریس نے دس میں سے نو سیٹیں جیتیں لیکن ریاست کے حصے میں صرف ایک وزارت آئی ہے۔

پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے وزراء کی تعداد سات سے بڑھ کر دس ہوگئی ہے جبکہ خواتین کی نمائندگی دس سے کم ہوکر نو رہ گئی ہے۔

جن اہم سیاسی راہنماؤں کی اس مرتبہ چھٹی کر دی گئی ہے ان میں کانگریس کے سیف الدین سوز ( کشمیر)، ارجن سنگھ( مدھیہ پردیش) سیس رام اولا (راجستھان)، شوراج پاٹل ( مہارشٹر) اور ہنس راج بھاردواج شامل ہیں۔ یہ سبھی سابقہ حکومت میں وزیر تھے۔ ان کے علاوہ اترپردیش میں بینی پرساد ورما بھی، جو سماجوادی پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے تھے، حکومت میں جگہ حاصل نہیں کر سکے۔

لیکن اس سب سے زیادہ حیرت انگیز صورتحال ہماچل پردیش کی ہے جہاں سے کانگریس نے صرف ایک سیٹ جیتی ہے لیکن کابینہ میں دو وزیر ریاست کی نمائندگی کریں گے۔

انتخابات کے نتائج اگرچہ سولہ مئی کو آگئے تھے لیکن وزارتوں کے معاملے پر نہ صرف ڈی ایم کے جیسے اتحادیوں کے ساتھ بلکہ کانگریس کے اندر بھی کھینچ تان چل رہی تھی جس کی وجہ سے حکومت کو حتمی شکل دینے میں اتنی تاخیر ہوئی اور جس کے اثرات وزارتی کونسل میں ریاستوں کو غیر متناسب نمائندگی کی کمی کی شکل میں صاف نظر آرہے ہیں۔