پنجاب: سیکورٹی سخت

ویانا کے گردوارے میں ہوئے حملے کے بعد پنجاب میں حالات حساس ہیں۔
،تصویر کا کیپشنویانا کے گردوارے میں ہوئے حملے کے بعد پنجاب میں حالات حساس ہیں۔

سکھ مذہب کے ایک مسلک ڈیرا سچ کھنڈ کے مذہبی پیشوا سنت رامانند کی آخری رسومات کی ادائیگی سے پہلے جمعرات کو پنجاب میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

انکی آخری رسوم جالندھر کے پاس ادا کی جائیں گي۔ انہیں آسٹریلیا کے دارلحکومت ویانا میں ہلاک کردیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔

ریاست میں امن اور قانون بنائے رکھنے کے لیے اضافی فورس تعینات کی گئی ہے۔

مانا جارہا ہے کہ کہ پنجاب اور دیگر ریاستوں سے ڈیرا کے ہزاروں ماننے والے آخری رسومات میں شرکت کے لیے پنجاب پہنچے گئے ہیں۔

پنجاب کے اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جے پی وردی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور علاقے میں امن کا ماحول ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جالندھر کے آس پاس ٹریفک جام سے بچنے کے لیے سرکاری اور نجی بسوں کے روٹ بدل دیئے گئے ہیں۔ ان میں لدھیانہ، جالندھر، جالندھر- پٹھان کوٹ اور جالندھر- امرتسر کے راستے شامل ہیں۔

سنت رامنند کی جسد خاکی کو ویانا سے خصوصی طیارے میں لایا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے ایک گردوارے میں ہوئے ایک حملے میں ڈیرا سچ کھنڈ کے گرو کی موت ہوگئی تھی اور ڈیرا کے سربراہ نرنجن داس زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پنجاب میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ مظاہرین نے بسوں اور ٹرینوں میں آگ لگا دی تھی۔ پولیس کے ساتھ جھڑپ میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حالات کو قابو کرنے کے لیے کئی شہروں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا تھا۔

ڈیرا سچ کھنڈ پنجاب میں دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کے لوگوں کے سب سے بڑے ڈیرے کے طور پر جانا جاتا ہے۔